سوال      6723

سیدنا معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہوگی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہوگا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہوگی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہوگا، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے۔ [سنن ابوداؤد: 4294]
علمائے کرام کے مطابق یثرب سے مراد امت مسلمہ اور بیت المقدس سے مراد یہود کی کئی ہے، یعنی یثرب کی تباہ حالی یعنی مسلمان تباہ حال ہو چکے ہوں گے اور بیت المقدس اتنا پھل پھول رہا ہوگا یعنی یہودی انتہائی طاقتور ہو چکے ہوں گے۔
اس کی وضاحت کردیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اس حدیث کی چند توجیہات ہیں ایک تو وہی جو پوسٹ میں لکھی ہوئی ہے دوسری یہ کہ بیت المقدس کی آبادی سے مراد یہودی اسے آباد کریں گے اور مدینہ منورہ ویران ہو جائے گا۔
تیسری توجیہ یہ ہے کہ بیت المقدس آبادی سے مراد مسلمان اسے آباد کر لیں گے، جیسا کہ صحیح ابن حبان وغیرہ کی احادیث میں آتا ہے کہ ملاحم کے وقت شام مسلمانوں کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ اور فلسطین اور بیت المقدس سرزمین شام ہی کا حصہ ہے۔
لہذا لوگ جوق در جوق بیت المقدس کا رخ کریں گے، اسی وجہ سے مدینہ ویران ہو جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہودی کہاں جائیں گے؟ تو مسند احمد کی حدیث کے مطابق وہ اصفہان چلے جائیں گے، جو اس وقت ایران کا شہر ہے اور اصفہان ہی سے 70 ہزار یہودی دجال کے ساتھ نکلیں گے۔
واللہ اعلم ۔۔
یہ تیسری توجیہ ہمیں زیادہ مناسب لگتی ہے اور یہی توجیہ فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے بھی بیان کی ہے۔
امید ہے کہ حدیث کے اسی ٹکڑے کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ