سوال (6491)
بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، اس میں اصل حکم یہی ہے طواف کرتے ہوئے سجدہ کی جگہ پر نظر رکھے، اگر طواف کے لیے بیت اللہ کو بائیں طرف لیتے ہوئے سیدھے چلتے ہوئے اگر خود بیت اللہ کے سامنے والا حصہ نظر آجائے تو اس میں حرج نہیں ہے، لیکن طواف کے دوران کعبۃ اللہ کی طرف چہرہ کر کے دیکھنا یا کسی اور طرف دیکھنا خلافِ ادب اور مکروہ ہے، تاہم طواف ادا ہو جائے گا؟ اور حالت طواف میں کعبہ شریف کی طرف سینہ کرنا یا پشت کرنا بالکل ممنوع ہے، اگر کسی نے ایسا کیا تو جتنے حصہ میں سینہ یا پیٹھ کعبہ کی طرف کر کے چلا ہے، اُتنے حصہ کا طواف نہیں ہوگا، اس کا اعادہ کرنا ہوگا، اعادہ میں یا تو الٹے پاؤں اتنا حصہ پیچھے آجائے، لیکن اگر رش کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو اس پورے چکر کا اعادہ کرلے۔
جواب
بلا دلیل ہے، بس فقہاء کی بے دلیل باتیں ہیں، اس لیے بہت سارے صحابہ کرام بھی ان کے فقہاہت کے درجے میں نہیں ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




