سوال (5970)

شیوخ عظام رہنمائی درکار ہے کہ ایک شعر جو عموماً بریلوی مکتبہ فکر کے مدارس و مساجد میں لکھا ہوتا ہے
“بلغ العلی بکماله، کشف الدجی بجماله، حسنت جمیع خصاله، صلوا علیه و آله”
اس کا صحیح ترین ترجمہ کیا ہے اور عقیدہ کے لحاظ سے یہ کیسے اشعار ہیں،
شنید یہ ہے کہ بریلوی لوگ یہ اشعار واقعہ معراج کے تناظر میں اپنے عقیدہ کے طور پر لکھتے پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ذاتی کمال کے ساتھ بلندیوں کی انتہا تک پہنچے اور آپ کے سامنے سے سب پردے ہٹا دیے گئے وغیرہ۔
ملاحظہ: اہلحدیث رسالہ کے کسی مضمون میں یہ اشعار نقل کیے گئے ہیں جس پر ہمارے علاقہ کے لوگ اختلاف کا شکار ہیں ایک گروہ کہتا کہ یہ بالکل ٹھیک ہیں اس میں کوئی حرج نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے جبکہ دوسرا گروہ کہتا یہ بریلویوں کے مخصوص اشعار ہیں ہمیں پرہیز کرنا چاہیے۔
ان اشعار کا ترجمہ اور پس منظر و پیش منظر سمیت مکمل رہنمائی درکار ہے؟

جواب

یہ شعر ساتویں صدی کے مشہور صوفی شاعر سعدی شیرازی کا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں انہوں نے یہ رباعی کہی ہے۔
اسکا معنی بالکل درست ہے۔
کہ “وہ اپنے کمال سے بلندیوں کو پہنچے۔۔۔اپنے کردار کے جمال سے اندھیروں کو دور کیا۔۔۔
ان کی تمام خصلتیں اچھی ہیں۔۔۔ان پر اور انکی آل پر درود بھیجو۔۔۔”
سعدی کا بس اتنا ہی رباعی پر مبنی کلام ہے۔ جو کہ معنیً صحیح ہے۔
یہ کلام اتنا مشہور ہوا کہ بعد کے اردو شعراء نے اسکے وزن پر طویل نعتیں لکھیں اور اس رباعی کو بھی اس میں شامل کیا۔ بعض نے اسکو دیکھ کر پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل مضمون لکھ ڈالے ہیں۔
الغرض اس رباعی کے ساتھ جتنی اردو نعتیں لکھی گئیں یا پڑھی گئیں انکو بنظر تحقیق دیکھنا چاہیے۔
لیکن اگر صرف اس رباعی کی بات ہے تو اسے بیان بھی کیا جاسکتا ہے اور تحریر میں شامل بھی کیا جاسکتا ہے۔
اسکا پس منظر فقط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہے۔ بعد میں اسکے ساتھ شرکیہ و بدعیہ افکار و نظریات پر مشتمل اردو حاشیے دیگر لوگوں نے چڑھائے ہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ