سوال (6524)
بندے کا وضوء کب ٹوٹتا ہے، وضوء کب کرنا پڑتا ہے، جب بندے کی ہوا خارج ہو، آواز بھی نہ آئے تو وضوء کرنا لازمی ہے؟
جواب
ایک شک ہوتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ شک کے پیچھے نہ لگیں، “حتی یسمع صوتا او یجد ریحا” ایسا کچھ نہیں ہے تو اس کا وہم ہے، شک میں نہ پڑیں، باقی اگر نیند آ جائے، اونگھ نہیں، ایک لمحے کی نیند سے بھی وضوء ٹوٹ جاتا ہے، بغیر کسی کپڑے کے حائل کیے ہوئے، شرمگاہ کو ہاتھ لگائیں گے تو آپ کا وضوء ٹوٹ جائے گا، حالت بیہوشی میں وضوء ٹوٹ جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




