سوال 6995
نبی اکرم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت جیسے کیوں نہیں ہو سکتے؟ پھر آپ ﷺ نے اس کا واقعہ بیان فرمایا:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو وہ راستہ بھول گئے۔ علماء نے بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے وصیت کی تھی کہ ان کی ہڈیاں ساتھ لے جائی جائیں۔
ایک بوڑھی عورت کو حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر کا علم تھا۔ اس نے رہنمائی کے بدلے جنت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ مانگا۔ اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی شرط قبول کی۔
پھر اس عورت کی رہنمائی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکالی گئیں، اور اس کے بعد راستہ واضح ہو گیا۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمة اللہ
ہمارے علم کے مطابق شیخ البانی نے اس کو صحیحہ میں ذکر کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اس کو ذکر کیا ہے، ابو یعلیٰ نے بھی اس کو ذکر کیا ہے، اور اہل علم نے اس قصے کو قبول کیا ہے، بظاہر کوئی حرج نہیں ہے اس کے بیان کرنے میں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل:
شیخ اس میں ایک سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ انبیاء کا جسد سلامت رہتا ہے اور اس میں ہڈیوں کا تذکرہ ہے تو اس کی کیا تاویل ہو سکتی ہے، وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللّٰہ خیراً کثیرا
جواب:
السلام علیکم
اس کے مختلف جوابات ہیں میں آپ کو لنک بھیج دیتا ہوں ٹھیک ہے۔ تو جز سے مراد کل اور کل سے مراد جز کی بحث بھی ہے اور اعظام سے مراد بدن بھی ہے اور بدن سے مراد اعظام بھی ہے اور بھی بہت کچھ ہے۔ اور پھر وہ روایات بھی دیکھنے والی ہی ہیں سند کے اعتبار سے کہ ’’ان اللہ حرم علی الارض ان تأكل اجساد الانبياء‘‘، یہ بھی دیکھنے والی ہے۔
لنک ملاحظہ فرمائیں:
أعجزتم أن تكونوا مثل عجوز بني إسرائيل https://share.google/3QzAHzvQcUewVQNQ2
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس واقعہ کو شیخ البانی رحمه الله تعالى، شیخ زبیر علی زئی رحمه الله تعالى نے قبول کیا ہے.
اسی طرح مسند أبی یعلی کے محقق سعید بن محمد السناری نے حسن قرار دیا ہے اور أحمد الأقطش نے ضعیف وغیر ثابت قرار دیا ہے ان کی تحقیق ملتقی أھل الحديث میں دیکھ سکتے ہیں۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



