سوال (2955)
میرا ایک دوست جو سعودیہ میں رہائش پذیر ہے، اس نے ایک بنک اکاؤنٹ کھلوا رکھا ہے، جس میں سونے کی خرید و فروخت ہوتی ہے، سونا اس کے پاس موجود نہیں، لیکن جب وہ چاہے بینک اس کو اس کی رقم کے مساوی سونا فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو اپنے حصے کا سونا فروخت کر کے بنک سے رقم وصول کر سکتا ہے، سوال یہ ہے کہ اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ اور دوسرا یہ کہ سونا اگر زیورات کی شکل میں ہو تو کیا اس پر زکوۃ سونے کی قیمت کے مطابق ہوگی یا اس کی قیمت خرید پر ہوگی؟
جواب
اس مسئلے میں سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ سونے کا ادھار بزنس نہیں ہے، یہاں لازمی طور پر ہاتھوں ہاتھ نہیں ہو سکتا ہے، خواہ وہ پیسے لے یا پیسے کے بدلے سونا لے، لیکن ہاتھوں ہاتھ نہیں ہوسکتا ہے، اس میں وقت لگتا ہے، یہ معاملہ صحیح نہیں ہے، باقی زکاۃ کا مسئلہ ہے، اگر کسی کے پاس سونا ہے، جو نصاب کو پہنچتا ہے، سال اس پر گذر جائے تو اس پر زکاۃ ہے، اگر کسی کے پاس 52.5 تولے چاندی کے برابر پیسہ ہے تو اس پر بھی سال گذرنے کے بعد زکاۃ ہے، اس پر 2.5 اڈھائی پرسنٹ زکاۃ ہے، جس کو چالیسواں حصہ بھی کہتے ہیں، باقی یہ بات ہے کہ زکاۃ میں قیمت خرید یا فروخت کا اعتبار کیا جائے گا، ہمارے نزدیک قیمت فروخت کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ جس کے پاس چیز ہے، وہ بیچے گا، زکاۃ دینے والا بائع ہوتا ہے، مشتری نہیں ہوتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




