سوال (5362)
1. کیا عام (روایتی) بینک سے قرض لے کر گھر خریدنا جائز ہے؟
2. کیا اسلامی بینک سے گھر خریدنا شرعی طور پر درست ہے؟
3. اسلامی بینک کا ماڈل سود سے کیسے مختلف ہے؟
4. کیا اسلامی بینک مکمل طور پر سود سے پاک ہوتے ہیں؟
5. اسلامی بینک “مرابحہ” یا “اجارہ” اسکیم کے تحت گھر کیسے دیتے ہیں؟
6. اسلامی اور روایتی بینک کی اقساط میں کیا فرق ہوتا ہے؟
7. کیا اسلامی بینک کی قسطیں فکسڈ ہوتی ہیں یا ویری ایبل؟
8. کیا اسلامی بینک کی فیسیں (مثلاً پراسیسنگ فیس) بھی شرعی طور پر جائز ہیں؟
جواب
نمبر وار جواب دیتا ہوں۔
1۔ عام بینک سے قرض صرف سود پہ ہی ملتا ہے جو کہ حرام ہے چاہے اس سے گھر بنائیں یا کچھ اور۔
2۔ روایتی بینک اور عام بینک میں صرف حیلے کا فرق ہے باقی کوئی فرق نہیں ہے اس لئے اس سے بھی گھر خریدنا حرام ہی ہے میرا ایک تبلیغی جماعت کا بزنس مین دوست میزان بینک سے فنانس کروا کر باہر سے کچھ مال منگوانا چاہ رہا تھا وہ مجھے لاہور صدیق ٹریڈ سنٹر کے سامنے انکی مین برابچ میں لے گیا تاکہ میں انکی دلیل سمجھ سکوں انہوں نے بتایا کہ فرخ کریں آپ نے باہر ملک سے ایک کروڑ کا مال ادھار یعنی سود پہ منگوانا ہے اب عام بینک آپ کو کروڑ روپے دے گا آپ اس کا مال خرید کر منگوا لیں گے اور سال بعد منافع کما کر بینک کو اسکا دس لاکھ سود سمیت واپس کر دیں گے لیکن میزان والے آپ کو کہیں گے کہ فرض کریں وہ مال ہم نے ایک کروڑ کا خرید لیا پھر آپ کو کہیں گے کہ اب آپ نے وہ مال ان سے ایک کروڑ دس لاکھ کا خریدنا ہے اب یہ ایک حیلہ ہے کہ وہی جو عام بینک جس کو سود کہ رہا تھا یہ اسکو منافع کہ دیتے ہیں۔
اس پہ میں نے انکو کہا کہ اس طرح کا حیلہ تو پھر ہم عام قرضہ میں بھی کر سکتے ہیں میزان بینک والے نے کہا وہ کیسے میں نے کہا کہ فرض کریں کوئی آپ سے ایک کروڑ کا خالی قرضہ لینے آتا ہے اور آپ اسکو کہتے ہیں کہ میں تمھیں ایک کروڑ سود فری قرضہ دوں گا تم سال بعد صرف ایک کروڑ ہی واپس کرنا البتہ ویسے یہ میری ایک بال پینسل ہے اسکو تم دس لاکھ کا خرید لو تاکہ دوسرے بینک جو کمائی کر رہے ہیں وہ میں بھی کر سکوں تو کیا یہ عام قرضہ بھی پھر اس طرح حیلہ سے جائز نہیں کیا جا سکتا تو اس نے کہا کہ واقعی یہ بھی آپ نے ایک نئی پروڈکٹ ہمیں بتائی ہے میں اپنے ہیڈ آفس کو یہ بتاوں گا۔ یہ ہے انکی حالت۔ اگر کوئی کہے کہ جی اس طرح ایک کروڑ بغیر سود قرضہ لینے پہ جو ہم اس سے اسکی دس روپے کی پینسل کو دس لاکھ کا خرید رہے ہیں یہ مارکیٹ ویلیو نہیں ہے تو اسکو کہا جائے گا کہ تم بھی مرابحہ میں یہ کرتے ہو اور جو چیز باہر سے ایک کروڑ کی مل رہی ہوتی ہے وہ تم ایک کروڑ میں خرید کر ساتھ سود کی کیلکولیشن کر کے اس میں جمع کر کے اپنے گاہک کو جو بیچتے ہو تو وہ اسکی کون سی مارکیٹ ویلیو ہوتی ہے اگر وہ جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے اور اگر یہ نا جائز ہے تو وہ مرابحہ بھی نا جائز ہے۔
3۔ اسلامی بینک کا ماڈل سود سے بلکل مختلف نہیں ہے بلکہ یہ تو الٹا اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا ہے جسکا زیادہ گناہ ہے۔
4۔ نہیں یہ بھی سود ہی ہے اوپر وضاحت موجود ہے۔
5۔ مرابحہ میں حیلہ کی تفصیل کچھ اوپر بتا دی ہے اجارہ میں میزان والے آپ کو گاڑی اسی طرح ہی قسطوں پہ دیتے ہیں جس طرح دوسرے کنونشنل بینک دیتے ہیں سود کا ریٹ بھی اس نے کہا تھا کہ اسی طرح نکالتے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں بیٹھنا ہے ہاں البتہ اس قسط کو وہ حیلہ کرتے ہوئے کرایہ کہ دیتے ہیں وہ کرایہ مارکیٹ ویلیو کا نہیں ہوتا اور پانس سال بعد وہ گاڑی آپ کو فری میں دے دیتے ہیں حالانکہ انکو واپس لینی چاہئے تھی یہ بھی مارکیٹ ویلیو کے مطابق نہیں پس یہ بھی اسی طرح حیلہ ہے جیسے دس روپے کی پنسل کو دس لاکھ میں بیچنا ہوتا ہے۔
6۔ میں جب میزان بینک میں گیا تھا تو ان سے پوچھا تھا کہ تمھاری اقساط کیسے نکالی جاتی ہیں تو اس نے برملا کہا تھا کہ مارکیٹ میں رہنا ہے تو ہم بھی وہی آئی آر آر کا طریقہ استعمال کرتے ہیں جو عام بینک والے کرتے ہیں ہاں انکو نام کرایہ یا منافع وغیرہ دے دیتے ہیں۔
7۔ اسلامی بینک کی قسطیں اجارہ یا مرابحہ میں فکس ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ اسکو سود نہیں کہ رہے ہوتے باقی پروفٹ اینڈ لاز شیئر اکاونٹ میں وہ کہتے ہیں کہ کچھ فکس نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں وہ فکس ہی ہوتی ہیں۔
8۔ پتا نہیں آپ کس چیز کی پروسسسنگ فیس کی بات کر رہے ہیں کیونکہ لون، اجارہ، مرابحہ ہر چیز کی پراسسسنگ فیس ہوتی ہے جو ناجائز ہے البتہ اگر سود فری اکاونٹ مجبوری سے کھلوایا ہے تو اس میں پروسسسنگ فیس جائز ہو سکتی ہے البتہ اسلامی کی بجائے دوسرے میں کھلوانا بہتر ہے۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




