سوال 6987
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا بینک کے متحت اگر کوئی صحیح یا مباح کام کیا جاتا ہو تو وہ کیا جا سکتا ہے ؟ یا اس کی کمائی بھی بینک کی باقی نوکریوں کی طرح قباحت میں شمار کی جائیں گی ؟ جیسا کہ سعودیہ عرب میں الراجح بینک کے متحت رمضان میں روزے داروں کے لیے دسترخوان کی ڈیوٹی حج کے موسم میں حاجیوں کی خدمات کی ڈیوٹی اور قربانی کے موقع پر قربانی کے گوشت اور جانوروں کی جو سروسز اس بینک کے متحت ادا کی جاتی ہیں؟ کیا یہ اجرت جائز ہوگی؟ یا بینک کی باقی نوکریوں کی طرح اس پر بھی حکم لگے گا۔ رہنمائی فرمائیں
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، ممکن ہے کہ سعودی عرب کا نام سن کر ہمارے بہت سارے مشائخ اللہ سب کو برکت دے یہ کہیں کہ جی وہاں معاملہ مختلف ہے اور اس میں فرق ہے۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ یہاں کی طرح وہاں بھی سود (ربا) موجود اور منتشر ہے۔
لہٰذا تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ حتی الوسع اور حتی استطاعت ایسے معاملات سے دور رہا جائے جن میں شبہ پیدا ہوتا ہو۔ شرعی اصول بھی یہی ہے:
“مَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ”
اس لیے جبکہ بے شمار جائز کام موجود ہیں، تو ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہیے جن میں شبہ ہو۔ کم از کم فتویٰ کے درجے میں یہی بات دینا مناسب معلوم ہوتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



