سوال (1459)

ایک ساتھی یورپ کے کسی غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں تو وہاں پہ اپنا گھر خریدنا چاہتے ہیں، ادھر بینک کے ذریعے گھر لیا جاتا ہے، ظاہری بات ہے کہ وہ غیر مسلم ملک وہاں تو سود کا ہی نظام رائج ہے یعنی ایک لاکھ کا لیا ہے تو اس کے اوپر کچھ 20 فیصد یا 30 فیصد جو سود لیتے ہیں تو اب ان کا ادھر رہنا مجبوری بھی ہے تو کیا اس طرح ان کے لیے درست ہے؟

جواب

شریعت میں سودی لین دین کی اجازت نہیں ہے، خواہ کہیں رہتا ہو، اس نے اپنی مرضی کرنی ہے، وہ مکان لے کر رہے گا، علماء کے فتوے کی عام طور پر ایسے لوگوں کو پرواہ نہیں ہوتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جو طلبہ یورپ ممالک پڑھنے کے لئے جاتے ہیں۔ بیرون ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں گھر یا گاڑی لینی ہو تو وہ لون(سود) پر ملتی ہے بصورت دیگر کافی مسائل کا سامنا ہوتا ہے کیا ایسے میں گھر لون پر لے سکتے ہیں۔ راہنمائی فر مائیں
جواب: وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته!
سودی لین دین ہر جگہ حرام ہے۔
اسی وجہ سے کافر ممالک کی طرف سفر کو ناجائز کہا جاتا ہے، کہ صریح حرام کاموں کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ