سوال 6738
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ بسنت کے بارے میں اسلام کا کیا تصور ہے؟ ذرا تفصیل سے واضح فرما دیجئے؟ جزاک اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسنت کا تعلق معاملات کے باب سے ہے، اور معاملات میں شریعت کا ایک واضح اصول ہے کہ ہر کام اصلًا جائز اور حلال ہوتا ہے، جب تک شریعت اسے صراحت کے ساتھ حرام قرار نہ دے۔ اور شریعت کسی چیز کو حرام قرار دینے کے لیے باقاعدہ اصول اور ضوابط مقرر کرتی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں بسنت نہیں منائی جاتی تھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اُس دور میں موجود نہیں تھیں اور بعد میں آئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ: کیا نبی ﷺ کے فرامین اور شریعت کے اصول اس عمل کو جائز ٹھہراتے ہیں یا نہیں؟
سب سے پہلی بات یہ دیکھی جائے گی کہ بسنت کی بنیاد اور ایجاد کس کی ہے؟ تو یہ بات واضح ہے کہ یہ غیر مسلموں کی ایجاد ہے۔ نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے:
«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»
جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہیں میں سے شمار ہوگا۔
دوسری بات یہ کہ کیا بسنت محض ایک عام خوشی یا تفریح کا اظہار ہے؟ اگر باریکی اور گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق غیر مسلموں کے مذہبی اور عقیدتی پس منظر سے جڑا ہوا ہے، محض کھیل تماشہ نہیں۔
تیسری چیز نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اصولی فرمان ہے:
«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»
نہ نقصان پہنچاؤ، نہ خود نقصان اٹھاؤ۔
بسنت کے فوائد اگر واقعی کوئی ہوں تو کوئی دوست فہرست بنا کر پیش کر دے، ورنہ اس کے نقصانات اتنے واضح اور بے شمار ہیں کہ وہ سب کے سامنے ہیں اور کسی وضاحت کے محتاج نہیں۔
اور اگر فرضِ جدلی کے طور پر یہ مان بھی لیا جائے کہ نہ اس میں کوئی خاص فائدہ ہے اور نہ نقصان، تو پھر بھی یہ ایک لایعنی اور فضول مشغلہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
کسی بھی انسان کا بہترین اسلام یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں کو ترک کر دے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




