’’بسنت اور پتنگ بازی، علماءِ اہل حدیث کی نظر میں‘‘
(جمع وترتیب: حافظ محمد طاھر)

⇚مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے پتنگ بازی کے بارے پوچھا گیا کہ جائز ہے یا ناجائز تو فرمایا:
’’پتنگ بازی فی نفسہ لہو ولعب ہے اس کی تجارت بھی اسی حکم میں ہے۔ واللہ اعلم.‘‘ (فتاویٰ ثنائیہ: 2/ 474)

⇚مولانا داوُد راز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جو کام شرعاً منع ہیں جیسے پتنگ بازی، مرغ بازی، آتش بازی، ناچ رنگ ان میں تو ایک پیسہ بھی خرچ کرنا حرام ہے۔‘‘ (شرح صحيح بخاری: 3/ 538، حديث: 2408)

⇚مولانا عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’پتنگ بازی جائز نہیں اس لیے محض پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والا دھاگہ تیار کرنا دھاگہ کی تجارت کرنا درست نہیں۔ واللہ اعلم.

﴿وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾.

’’اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔‘‘ (احکام ومسائل: 1/ 380)

⇚مولانا عطاء اللہ ساجد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے۔ اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔‘‘
(شرح سنن ابن ماجہ، حدیث: 3764)
اسی طرح فرماتے ہیں:
’’قرض اچھے کام کےلیے لینا چاہیے۔ شادی اورغمی کی فضول غیر اسلامی رسموں یا بسنت اور سالگرہ جیسی کافرانہ تقریبات میں بغیر قرض لیےخرچ کرنا بھی گناہ ہے۔ ان کے لیے قرض لینا تو مزید گناہ ہوگا، ایسی رسموں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔‘‘ (شرح سنن ابن ماجہ، حدیث: 2409)
نیز فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کا مشرکین سے ملنا اس طرح بھی ہے کہ وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوجائیں اور یہ بھی ہے کہ جنگ وجدل اور جھگڑے فساد کے موقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کی مدد کریں اور یہ بھی ہے کہ ان کے کافرانہ رسم ورواج اور الحاد کے مظاہر کو ’’تہذیب‘‘ قرار دے کر اختیار کرلیں جیسے ہندؤں کی بسنت اور عیسائیوں کا ویلن ٹائن ڈے اور اپریل فول وغیرہ۔‘‘ (شرح سنن ابن ماجہ، حدیث: 3952)

⇚شیخ عبد الستار الحماد حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کبوتر بازی کی طرح بٹیر بازی، پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے۔ ایک مسلمان کو ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔‘‘ (فتاوی أصحاب الحديث: 5/ 521)

⇚فائدہ:
نواب محمد صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی پتنگ اڑائی ہو، مرغ لڑایا ہو، بٹیر پالا ہو، شطرنج گنجفہ، نرد شیر یا کوئی سا کھیل کھیلا ہو یا کبھی شہدوں کی صحبت میں بیٹھا ہوں۔‘‘ (ابقاء المنن/خود نوشت، صـ: 48)

ختم شد…

یہ بھی پڑھیں:کم عمری کی شادی کے حوالے سے عالم اسلام کے دو عظیم مفتیان کرام کا موقف