سوال 7021
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
اگر کوئی شخص کھاد وغیرہ خرید کرتا ہے اور اسی دکاندار کے پاس رکھ کر بیع سلم کی شرائط طے کر لیتا ہے۔ مگر مقررہ وقت تک جنس مہنگی ہونے پر اسی دکاندار کو بیچ دیتا ہے، جس کے پاس وہ کھاد/جنس رکھی ہے تو کیا یہ جائز ہے؟
جزاک اللّٰہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جی کوئی بھی چیز خرید کر اپنے قبضے میں لینا وہاں سے اٹھا کر اپنے پاس لے آنا پھر آگے بیچنا یہ طریقہ کار ہوتا ہے۔ اپنے قبضے میں لیے بغیر وہاں سے اٹھائے بغیر اس کا منافع درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حدیث کے مطابق ایسے ہی ہے جیسے شیخ محترم نے فرمایا چیز کو قبضے میں لینا چاہیے اور کھاد ایسی چیز ہے جو منتقل ہو سکتی ہے قبضے میں آسکتی ہے تو شبہ سے بچنا چاہیے بے مقصد کے۔ کاروبار کا اصول ہی یہ ہے کہ شبہ سے بچیں:
’’مَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ‘‘
اور بیع سلم کیسے بنے گی یہ بھی ایک عجیب سی بات ہے اس سوال کے اندر کہ اس کو بیع سلم کا درجہ کیسے دیا جائے گا یا تو بیع سلم کا اندازہ نہیں ہے کہ کس کو کہتے ہیں اس لیے سوال میں اس کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




