سوال 6694
مسجد میں صبح فجر کے بعد امام صاحب تفسیر بیان کرتے ہیں وہ جب
“و یسئلونک عن المحیض” “نساءکم حرث لکم”
پر پہنچیں تو بوقت بیان تفسیر کیا یہ اعلان کرسکتے ہیں کہ جتنے کنوارے ہیں وہ مسجد کے اندرونی ہال سے باہر بیٹھ جائیں اور مائک بھی بند کر کے بیان کریں؟
جواب
یہ بات بے مقصد کی پابندی اور بے مقصد کی حیا بازی ہے۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے، اور زیادہ کچھ نہیں۔
البتہ بیان کرنے والا مہذب ہو، کیونکہ بعض اوقات ہمارے یہاں الفاظ کا انتخاب انتہائی نامناسب ہوتا ہے۔
لہذا بیان کے دوران الفاظ کا انتخاب انتہائی مناسب ہونا چاہیے تاکہ پیغام واضح اور شرعی حدود کے مطابق پہنچے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
کیا ایسا اہتمام کرنے کا قرآن وسنت میں کوئی حکم آیا ہے؟
کیا رسول اللہ ﷺ نے ایسا کوئی اہتمام فرمایا؟
کیا آپ کی مجلس میں کنوارے اور بچے نہ تھے؟
کیا ایسے مسائل عوام میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟
تو پھر آج اس کی کیوں ضرورت پیش آئی۔
البتہ مدرس ایسے الفاظ کا استعمال کرے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔
پہلے ہی عوام الناس اسلام کی بنیادی تعلیمات سے محروم ہیں۔
مزید محروم کرنا کوئی مستحسن قدم نہیں ہے۔
بہرحال مجلس کی رعایت رکھتے ہوئے ڈھکے چھپے الفاظ میں مسائل بیان کرنا ہی بہتر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس تو آ کے عورتیں بھی کہ لیتی تھیں۔
“ان اللہ لا یستحیی من الحق”
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی حفظہ اللہ




