سوال

میرا نام جاوید ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ 2019 میں میں نے اپنی بہن کی شادی کی تھی۔ میں نے اپنی بہن کو جہیز میں استعمال کی ہر چیز دی تھی جس میں سونے کے زیورات بھی موجود تھے۔
میری بہن کو اپنی سسرال میں کافی مسئلے تھے وہ لوگ مالی طور پر بہت کمزور ہیں اور میری بہن کی ضروریات کو پوری نہیں کر سکے۔ یہاں تک کہ وہ بیمار ہوتی تھی تو اس کا علاج وغیرہ بھی میں ہی کرواتا تھا۔ میری بہن کو انہوں نے کافی تکلیفوں میں رکھا یہاں تک کہ اسے خوراک تک صحیح نہیں دی جس کی وجہ سے اسے خون کی کمی ہو گئی اور وہ بہت زیادہ بیمار رہنے لگی۔ اور اسی حالت میں اس کی دو بیٹیاں بھی پیدا ہوئی ایک بیٹی کی عمر پانچ سال ہے اور دوسری بیٹی کی عمر اڑھائی سال ہے۔ ابھی دو ماہ پہلے اس کی تیسری بچی بھی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے میری بہن8 اکتوبر 2025 کو انتقال کر گئی۔
اب میں اپنی بہن کا وہ سامان جو میں نے اسے جہیز میں دیا تھا وہ میں واپس لینا چاہ رہا ہوں جس میں سونے کے زیورات بھی موجود ہیں۔ اس کا شوہر لالچی ہے اور وہ سامان دینے سے انکار کر رہا ہے۔بچیاں ابھی چھوٹی ہیں سامان استعمال کرنے کے قابل نہیں ہیں اور بچیوں کا باپ دوسری شادی کرے گا تو یہ سامان کس کے حق میں جائے گا؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

آپ کی بہن رحمہا اللّٰہ کے انتقال کے بعد وہ تمام سامان جو وہ جہیز میں اپنے ساتھ لائی تھی۔ جس میں سونے کے زیورات بھی شامل ہیں۔ شرعاً مرحومہ کی اپنی ملکیت شمار ہوگا، کیونکہ شادی کے وقت جو سامان لڑکی کو بطور ہبہ دیا جاتا ہے وہ اسی وقت اس کی ملکیت ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“لا يحِلُّ مالُ امرئٍ مُسلِمٍ إلّا بطِيبِ نَفْسٍ منه”. [مسند احمد: 23605]

کسی مسلمان کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں۔
لہٰذا بھائی کے لیے یہ سامان واپس لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ اب ورثاء کا حق ہے۔
وفات کے بعد یہ سامان مرحومہ کے ترکہ میں شمار ہوگا اور اس کی تقسیم قرآن و حدیث کے مطابق ہوگی۔ چونکہ مرحومہ کی اولاد موجود ہے، اس لیے شوہر کو ایک چوتھائی (1/4) ملے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌”. [النساء: 12]

پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو انہوں نے چھوڑا۔
اسی طرح تین بیٹیوں کو ملا کر دو تہائی (2/3) دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ‌”. [النساء: 11]

پھر اگر وہ دو سے زیادہ عورتیں (ہی) ہوں، تو ان کے لیے اس کا دوتہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔
اور باقی مال بہن کے بہن بھائیوں کو بطور عصبہ ملے گا بشرطیکہ بہن کے والدین بہن کی وفات کے وقت حیات نہ ہوں۔
ترکہ کی تقسیم سے پہلے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے، پھر اگر کوئی قرض ہو تو ادا کیا جائے گا، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی کے اندر پورا کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن کا حکم ہے:

“مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌”. [النساء: 12]

اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں، یا قرض (کے بعد)۔
اس کے بعد باقی مال ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
جہاں تک بچیوں کا تعلق ہے تو وہ اگرچہ کم عمر ہیں، مگر ان کا حصہ شرعاً ثابت ہے، خواہ وہ فی الحال اس سامان کو استعمال نہ کر سکیں۔ اور بچیوں کے باپ کے دوسری شادی کرنے یا نہ کرنے سے ترکہ کی تقسیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔
لہذا مذکورہ عورت جو خاوند کی طرف سے بطور حق مہر اور گفٹ و ھبہ اور جو میکے کی طرف سے سامان وغیرہ لائی تھی، وہ سب عورت کے ترکہ میں شمار ہوگا اور پھر تقسیم درج بالا طریقہ سے ہوگی۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ