سوال 7015
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ بغیر ٹوپی کے ساتھ نماز پڑھنے کو عادت بنا لینا کیسا ہے اصلاح فرما دیں؟
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
نماز میں سر ڈھانپنا ضروری ہو اس پر کوئی صحیح و صریح دلیل موجود نہیں ہے۔
البتہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عام طور پر سر مبارک ڈھانپ کر رکھتے تھے تو نماز میں بھی سر مبارک پر عمامہ وغیرہ ہوتا تھا اس لئے اولی یہی ہے کہ سر ڈھانپ کر ہی نماز پڑھیں اور اگر کوئی ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو اسے ملامت نہیں کر سکتے ہیں۔
اور ایسے لوگ جو اس متعلق زیادہ سخت وارد ہوتے ہیں تو ان سے کہیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کبھی داڑھی کے بغیر اور کپڑا ٹخنوں میں لٹکا کر نماز نہیں پڑھی ہے تو ادھر بھی خاص توجہ کریں۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اس میں تھوڑا سا اضافہ فرما لیں کہ نماز کے لیے خصوصی طور پر سر ڈھانپنے کا اہتمام تو نبی علیہ السلام سے ثابت نہیں ہے لیکن عام حالات میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو ڈھانپ کر رکھا ہے۔ اس طرف توجہ کوئی نہیں دیتا۔ مسجد میں جاتے ہوئے ٹوپی پہن لی، رومال باندھ لیا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مسجد سے باہر نکل کر وہ سنت کہاں جاتی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ



