سوال

مشائخ کرام! ایک عورت ایک شخص کے عقد میں تھی، وہیں سے بھاگ کر دوسرے شوہر سے شادی کرلی ہے، اب آج اس کا پہلا شوہر فوت ہوگیا ہے، تو کیا پہلے شوہر کی عدت گزارے گی، کیونکہ نکاح فسخ نہیں ہوا تھا، جبکہ دوسرے شوہر سے بھی اس کے کئی بچے ہیں۔

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

صورتِ مسئولہ میں یہ بات واضح ہے کہ عورت پہلے شوہر کے نکاح میں ہی تھی، اس نکاح کے فسخ یا طلاق کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اس عورت کا دوسرے شخص سے نکاح شرعاً صحیح نہیں تھا، کیونکہ ایک عورت کا بیک وقت دو نکاحوں میں ہونا باطل اور حرام ہے۔

لہٰذا شرعی اعتبار سے پہلا نکاح بدستور قائم رہا، اور دوسرا نکاح باطل شمار ہوگا، اگرچہ اس سے اولاد پیدا ہو چکی ہو۔

اب چونکہ پہلا شوہر فوت ہو چکا ہے، تو یہ عورت عدتِ وفات گزارنے کی پابند ہے، کیونکہ وہ شرعاً اسی کی زوجہ تھی۔ عدتِ وفات چار ماہ دس دن ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں صراحت موجود ہے:

“وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا”. [البقرة: 234]

اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس راتیں انتظار میں رکھیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس عورت پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ و استغفار کرے، کیونکہ نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرنا اور اس پر قائم رہنا ایک بڑا گناہ ہے۔

عدتِ وفات مکمل کرنے اور استبرائے رحم کے بعد، اگر وہ عورت اور دوسرا شخص دونوں خلوصِ دل سے توبہ کر لیں، تو نکاح کی شرعی شرائط پوری ہونے کی صورت میں دوسرے شخص سے نئے سرے سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ