سوال (6546)

ایک شخص نے 40 سال پہلے اپنے بھائی کو ساری جائیدادوں کا مختیار نامہ دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرا سب کچھ تیرا ہے اور وہ بندہ خود امریکہ سیٹ ہو گیا اس طرح 40 سال گزر گئے اب اخر میں آ کے وہ جو باہر ملک والا بھائی ہے جس نے کہا تھا کہ میری ہر چیز تیری ہے وہ اپنے وعدے سے مکر گیا ہے اور دوسرے بھائی کو دینا چاہتا ہے؟ اب کیا یہ بندہ مختیار نامے کی بحث پر وہ چیزیں زبردستی لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جس بھائی نے اپنی تمام جائیداد منتقل کی، کیا ان کا کوئی شرعی وارث موجود تھا؟ اگر ان کے ورثاء موجود تھے، تو انہیں اس طرح سب کچھ دے دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا، اور ایسی صورت میں ان کا یہ اقدام، مختار نامہ یا وصیت شرعی و قانونی طور پر باطل تصور ہوگی۔
تاہم، اگر ان کا کوئی بھی وارث موجود نہ تھا، تو یہ عمل درست تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جائیداد پر قبضہ حاصل کر لیا گیا ہو۔ اگر متعلقہ شخص ان اشیاء پر مکمل قبضہ اور تصرف حاصل کر چکا تھا، تو سابقہ مالک اب انہیں واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ لہٰذا، میری رائے یہ ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ مختار نامے کی مدد سے تمام امور اپنے کنٹرول میں ہی رکھے۔

فضیلتہ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ ورثاء تو تھے کیا ساری کی ساری جائیداد پہلے والے کو واپس جائے گی یا ⅓ سے زائد اس کے پاس واپس جائے گی؟
جواب: اس معاملے میں پوری رقم (ترکہ) واپس ہونی چاہیے کیونکہ وہ سگا بھائی ہے، اور سگا بھائی شرعی طور پر وارث ہوتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ‘وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں’ (لا وصیت لِوارث)۔ چنانچہ اس حدیث کی روشنی میں پوری رقم ہی واپس ہونی چاہیے۔ وہ وصیت کے طور پر بھی بھائی کو کچھ نہیں دے سکتے کیونکہ بھائی وارثوں میں شامل ہوتا ہے۔ البتہ، اگر کوئی ایسی صورت ہو جس میں بھائی وارث نہ بن رہا ہو (ایسے مسائل کی تفصیل علماء سے معلوم کرنی چاہیے)، تو پھر ایک تہائی (ثلث) سے زائد رقم واپس کی جائے گی۔

فضیلتہ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

بھائی بھائی کی چیزیں استعمال کر ہی لیتا ہے۔ اس کا مطلب قبضہ نہیں ہوتا۔
البتہ جو لکھ کر دیا ہے وہ تو درست نہیں ہو گا کیونکہ بھائی وارث بھی بنتا ہے۔
البتہ وراثت کا تعلق مالک کے دنیا سے رخصت ہونے سے ہے۔
مالک کی زندگی میں وراثت کے اصول نہیں ہوتے۔ بلکہ برابری ہوتی ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ