سوال (6268)

بئر غرس کا پانی بطور برکت پینا کیسا ہے؟

جواب

برکت ایک غیبی امر ہے، اگر قرآن و حدیث سے کسی چیز کا بابرکت ہونا ثابت ہو، تو تبھی اس سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔ یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4) سنن ابن ماجہ وغیرہ میں ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے غسل کی وصیت کی تھی:

“إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ”.

”جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
شیخ البانی وغیرہ اہل علم نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ روایات بئر غرس کی فضیلت میں پیش کی جاتی ہیں جو کہ شدید ضعیف ہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

بئر غرس کی فضیلت وغیرہ میں مروی بعض روایات موضوع اور بعض شدید ضعيف اور بعض ضعیف ہیں۔
سنن ابن ماجہ والی روایت ﺇﺫا ﺃﻧﺎ ﻣﺖ ﻓﺎﻏﺴﻠﻮﻧﻲ ﺑﺴﺒﻊ ﻗﺮﺏ ﻣﻦ ﺑﺌﺮﻱ، ﺑﺌﺮ ﻏﺮﺱ، بھی ضعیف ہے اس روایت کی سند میں عباد بن یعقوب راوی مناکیر والا ہے اس کا ضعیف ہونا ہی راجح ہے۔
البتہ تاریخی طور پر اس کی شہرت موجود ہے مگر شرعی حیثیت سے اس کی کوئی فضیلت واہمیت ثابت نہیں ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

اگر اس سے مراد بئر شفا ہے تو وہ لوگوں کا بنایا ہوا ہے، یہ ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی کے حصول کے معجزہ تھا، اس کو پانی کے حصول کے لیے کسی نے نہیں سمجھا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ