سوال        6814

السلام علیکم شیخِ محترم، ایک سوال تھا کہ ہمارے اِدھر مشہور ہے کہ بیمار بندے سے دعا کروانی چاہیے کہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے، کیا ایسا کوئی معاملہ ہے؟ تو ذرا رہنمائی کر دیجیے گا۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس حوالے سے جو روایات بیان کی جاتی ہیں، ان پر اہلِ علم نے کلام کیا ہے۔ ان کی اسناد پر بحث ہوئی ہے اور مختلف فتاویٰ صادر کیے گئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سند کے اعتبار سے وہ روایات ناقابلِ قبول ہیں۔
البتہ صحیح روایت میں جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے یہ بات موجود ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: “اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو تُو مجھے دیکھنے نہیں آیا۔”
اس حدیث پر اہلِ علم کی تعلیقات یہ ہیں کہ مریض کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہذا اگر مریض خود دعا کرے، یا آپ مریض کے پاس بیٹھ کر دعا کریں، تو دعا کی قبولیت کا امکان بڑھ جاتا ہے یُرجٰی اِجابتُہٗ۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ