سوال 6910
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک آدمی بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہیں رکھ سکا، اب وہ فوت ہو گیا ہے، اس کے بارے میں اس کی اولاد کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مسئلے میں ایک موقف یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے:
“مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ”
یعنی جس شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں تو اس کے ولی وارث اس کی طرف سے وہ روزے پورے کر دے۔
اب ولی وارثوں کی عملی حالت، الا ماشاء اللہ، ہمارے سامنے ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے روزے ہی بمشکل رکھ پاتے ہیں۔
اس لیے اگر کوئی ولی وارث روزے رکھنے پر آمادہ نہ ہو تو پھر فدیہ دینا لازم آئے گا۔
فدیہ یہ ہے کہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔
یہ بھی درست ہے کہ تمام روزوں کا فدیہ ایک ہی مسکین کو دے دیا جائے، چاہے تیس روزوں کا ہو یا جتنے بھی روزے باقی ہوں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر تو وہ شخص دائمی مریض تھا اور حالت بیماری ہی میں فوت ہوگیا تو اس صورت میں اس کی طرف سے روزے نہیں رکھیں گے بلکہ فدیہ ہی دیں گے۔ کیونکہ دائمی مریض کے لیے فدیہ کا حکم ہے شریعت میں۔ [البقرۃ: 184]
فوت شدگان کی طرف سے ورثاء روزے رکھیں گے [بخاری: 1952]
اس کی صورت مختلف ہے۔ دائمی مریض کے لیے نہیں ہے۔
مزید وضاحت عرب مشائخ کے فتاوی جات میں دیکھی جاسکتی ہے۔
https://islamqa.info/ur/answers/174581
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ



