سوال        6797

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
خاوند نے اپنی بیوی کے علم میں لائے بغیر اس کو طلاق بول دی، اب بیوی کو کسی بھی ذریعہ سے نہیں بتایا گیا تو کیا یہ طلاق ہو جائے گی یا بیوی تک اطلاع پہنچانا لازمی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ۔
قرآن کہتا ہے: “بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ” نکاح کا معاملہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا مرد نے طلاق بول دی، تو طلاق ہو گئی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اطلاع پہنچانا لازمی ہے، وہ ایک بعد کا مسئلہ ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں؟ تو وہ ہو چکی ہے۔ اب ظاہر بات ہے، اگر طلاق دی ہے تو بیوی کو پتا ہونا چاہیے، تاکہ وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکے۔ آپ کا عدت کا سوال ہے، وہ آپ کے ساتھ کیا گیا، اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ تو طلاق ہو چکی ہے۔ آپ کی عدت بھی ہو چکی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

سائل: بیوی موقع پر موجود نا ہو اور اس کو اطلاع بھی نا دی جائے تب کیسے عدت ہوگی؟
جواب: میں نے یہ نہیں کہا کہ بیوی کو اطلاع نہ دی جائے، یہ تو میں نے کہا ہی نہیں۔ باقی موقع پر موجود ہونا کوئی شرط نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ