سوال
مفتیان کرام سے میرا سوال ہے کہ میں حمید الرحمن ولد گل مرجان رات تقریباً 11:00 بجے گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ کو موبائل فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے پایا۔ جب انہوں نے فون کال کے بارے میں دریافت کیا تو اس پر دونوں کے درمیان بحث و تکرار شروع ہو گئی۔ دورانِ جھگڑا اہلیہ شدید غصے میں آ گئیں اور انہوں نے فوراً طلاق دینے کا مطالبہ کیا۔
اگلی صبح اہلیہ گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جھگڑے کے دوران جناب حمید الرحمن نے لفظ “طلاق” پانچ مرتبہ کہا، جس کے نتیجے میں طلاق واقع ہو گئی۔
تاہم جناب حمید الرحمن اس دعوے کو قطعی طور پر رد کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ ایک مرتبہ اور نہ ہی کسی صورت میں طلاق کا لفظ ادا کیا۔ میاں بیوی دونوں اس بات پر آمادہ ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو حلف اٹھا کر اپنے بیانات پیش کریں۔
ان حالات کے پیشِ نظر، ہم آپ کی خدمت میں درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی کے طلبگار ہیں:
کیا صرف بیوی کے دعوے کی بنیاد پر، جبکہ شوہر واضح طور پر طلاق کے تلفظ کا انکار کر رہا ہو، طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
جب کوئی گواہ موجود نہ ہو اور شوہر قسم اٹھا کر طلاق دینے سے انکار کرے تو شریعت کا کیا حکم ہے؟
تعالیٰ آپ کو آپ کے علم و وقت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ والسلام
سائل: حمید الرحمن
فون نمبر : ،3125226112
بتاریخ: 30-12-2025
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
طلاق دینا مرد کا حق اور اختیار ہے، اس لیے طلاق کے معاملات میں شرعی طور پر شوہر کا بیان ہی معتبر تسلیم کیا جاتا ہے۔ بیوی کا دعویٰ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا جب تک وہ اس پر کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرے۔ بصورتِ دیگر یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ بیوی محض علیحدگی حاصل کرنے کے لیے غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ اگر شوہر طلاق سے انکار کرے تو طلاق واقع نہیں ہوگی اور شوہر کی بات کو ہی حتمی مانا جائے گا۔ البتہ اگر بیوی کے پاس گواہ، تحریری دستاویز یا کسی ریکارڈنگ کی صورت میں کوئی ثبوت موجود ہو تو پھر حکم مختلف ہو سکتا ہے۔
مزید یہ کہ جب شوہر حلفاً طلاق کے تلفظ سے انکار کر رہا ہے اور بیوی اس کے وقوع پر اصرار کر رہی ہے، تو قوی احتمال ہے کہ عورت نے جھگڑے اور اشتعال کے عالم میں شوہر کے بعض سخت یا تلخ الفاظ (مثلاً: “چلی جاؤ”، “نکل جاؤ” وغیرہ) کو طلاق سمجھ لیا ہو۔ چونکہ شوہر پورے یقین اور حلف کے ساتھ طلاق کے لفظ اور اس کی نیت دونوں سے انکار کر رہا ہے، اس لیے محض گمان یا غلط فہمی کی بنیاد پر شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی۔
نیز، اس صورتِ حال میں بیوی کا طرزِ عمل بھی محلِ نظر ہے، کیونکہ رات گئے کسی نامعلوم کال کے بارے میں دریافت کرنا شوہر کا شرعی اور عرفی حق ہے، جسے محض بدگمانی پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ شوہر کے سوال پر وضاحت کے بجائے جھگڑا کرنا یہ ایک طرح سے عورت کی بد دیانتی کی علامت ہے کہ وہ محض علیحدگی حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ بہرحال، چونکہ شوہر طلاق دینے سے انکاری ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں شوہر کی بات کو ہی تسلیم کیا جائے گا، لہٰذا طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اگر حالات اس حد تک بگڑ جائیں کہ نباہ ممکن نہ رہے، تو عورت کے لیے شرعی طریقے سے خلع کا مطالبہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ



