سوال
بچہ اگر فوت ہو جائے تو اس کے ساتھ قبر میں کیا ہوگا؟ چاہے نومولود ہو، یا چھوٹا بچہ، یا 7 یا 10 سال کا۔
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
جو بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں، خواہ وہ نومولود ہوں یا چند سال کے، ان کے بارے میں اہلِ علم کا راجح موقف یہ ہے کہ وہ جنتی ہیں، چاہے وہ مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے، کیونکہ وہ بلوغت سے پہلے مکلف ہی نہیں ہوتے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
“كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ”. [صحیح البخاری: 1385]
ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ نبی ﷺ نے جنت میں بچوں کو دیکھنے کا ذکر کیا تو صحابہؓ نے عرض کیا:
کیا ان میں مشرکین کے بچے بھی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ”. [صحیح البخاری: 7047]
ہاں، مشرکین کے بچے بھی۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں، وہ جنت میں داخل ہوں گے، چاہے وہ کفار کے ہی ہوں۔
ابتدائے اسلام میں ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا:
“اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ”. [صحیح البخاری: 1384]
اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے ہوتے۔
لیکن بعد میں وحی کے ذریعے یہ بات واضح کر دی گئی کہ نابالغ بچوں کا انجام جنت ہے، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ لہٰذا جو بچے بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں وہ سب جنتی ہیں چاہے مسلمانوں کے ہوں یا مشرکین کے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ



