سوال (6537)
ایک بھائی نے مکان بنانے کی نیت سے اس لیئے کیبل خریدی کے بعد میں مہنگی ھو سکتی ھے مگر مکان شروع کرنے میں ابھی اس کو ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ جانا ھے تو کیا وہ گھر میں رکھی ھوئی کیبل پر زکوٰۃ دے گا؟ اور دوسرا یہ کہ سال بعد اس کیبل کو فروخت کرنے کا ارادہ بن گیا کیونکہ سال بعد ریٹ بڑھ گیا تھا اب اس میں زکوٰۃ کیسے ھوگی؟
جواب
دیکھیں کہ جب کیبل سامان تجارت بن گئی ہے، تو اس پر زکاۃ ہوگی، یا پھر استعمال کے لیے لی تھی، اچانک بیچنے کی نیت ہوبنا لی، اگر بیچنے کی نیت کو ایک سال ہوگیا ہے تو زکاۃ دے دیں، ورنہ سال ہونے کا انتظار کریں، اگر بیچ دی ہے، تو صحیح ہے، اگر وہ رقم پڑی ہے، ساڈھے باون تولے چاندی کی رقم سے اوپر ہے، تو زکاۃ دے دیں، اگر رقم ختم ہوگئی ہے تو پھر زکاۃ نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




