سوال
نفاس کا خون اگر 40 دن کے بعد بھی آئے، تو اسکے کیا احکام ہیں؟
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔
سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً”. [سنن أبی داؤد: 311]
’نفاس والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے دور میں زچگی کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھی رہتی تھیں‘۔
لہٰذا اگر عورت چالیس دن سے پہلے پاک ہو جائے، چاہے 10 دن بعد، 15 دن بعد یا کسی بھی دن، تو جیسے ہی پاکی کے آثار ظاہر ہوں وہ غسل کرے گی، نماز پڑھے گی، روزہ رکھ سکتی ہے، اور شوہر کے لیے بھی حلال ہو جائے گی۔
اور اگر خون چالیس دن پورے ہونے کے بعد بھی جاری رہے تو وہ خون نہ حیض کا ہوگا نہ نفاس کا، بلکہ اسے خون استحاضہ کہا جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مستحاضہ عورت سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
“إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ”. [صحیح البخاری: 228]
یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے۔
اس لیے مستحاضہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے گی، اور نماز، روزہ معمول کے مطابق ادا کرے گی، اسی طرح اس دوران میاں بیوی کے تعلقات بھی حلال ہونگے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ



