سوال 6871
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! جانوروں پر کس کس طرح سے زکوۃ ہے کب کب ہے؟
کچھ جانور عام طور پر لوگوں نے گھروں میں رکھے ہوتے ہیں وہ پالتے ہیں اور ان کو چارہ وغیرہ خود خرید کر ڈالتے ہیں یا اپنے کھیتوں سے ڈالتے ہیں اور دوسرے کچھ جانور جو ہمیں چڑھتے ہوئے نظر اتے ہیں اسی طرح تیسری قسم ہے جن کو لوگ فارم ہاؤس میں بطور تجارت کے رکھتے ہیں۔ کیا ان تینوں طرح کے جانوروں میں فرق ہے زکوۃ الگ الگ ہے یا وہی احکام ہیں جو ہم عام روٹین میں پڑھتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جن جانوروں کو آپ سال کے زیادہ حصے میں چارہ کھلاتے ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ مالِ تجارت ہوں۔
اگر وہ مالِ تجارت ہیں تو سال مکمل ہونے پر حساب کیا جائے گا کہ کل مال کی قیمت کیا ہے۔ جتنی رقم گھر یا بینک میں موجود ہے، اسے شامل کیا جائے گا۔ لوگوں سے جو قابلِ وصول رقم ہے، وہ بھی جمع کی جائے گی۔
پھر مجموعی مال میں سے جو رقم آپ کو دوسروں کو دینی ہے، اسے منہا کر دیں۔ جو باقی بچے، اس پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ دی جائے گی، بالکل مالِ تجارت کی طرح۔
آپ کی جو بات ہے کہ جانور چرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ واضح نہیں ہوئی۔
اور آخری بات کہ فارم ہاؤس میں بطورِ تجارت رکھتے ہیں تو اس کا طریقہ بھی بیان کر دیا گیا کہ مالِ تجارت کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




