سوال 6712
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر کسی کے کئی سالوں کے روزے رہ گئے ہوں، یا صرف ایک سال کے روزے چھوٹے ہوں، تو کیا ان کا فدیہ رمضان کے علاوہ بھی دیا جا سکتا ہے، یا صرف رمضان میں ہی دینا واجب ہے؟ جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
روزے رہ جائیں تو فدیہ دینے کی رخصت دائمی مریض کو ہے، عارضی مریض یا حیض کی وجہ سے روزے چھوٹے ہوں تو اس پر فدیہ نہیں بلکہ قضا ہے۔
اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ [البقرہ: 184]
تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پورا کرلے
لہذا جو عورت نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرتی ہیں ان کے لیے تو فرض روزوں کی قضا کا ہی حکم ہے ناکہ فدیہ کا۔
محتاط اندازہ لگا کر روزے رکھنا شروع کردیں سابقہ جتنے رہتے۔
تنبیہ : حاملہ یا دودھ پلانے کی وجہ سے جو روزے رہ گئے ان کا بھی فدیہ ہی یے ان کی قضا نا دیں تو حرج نہیں۔ اس پر الگ سے دلائل ہیں۔
جہاں تک بات ہے فدیہ کی ادائیگی کی تو جتنی جلد ممکن ہو دے دینا چاہیے اُسی رمضان میں ہی۔ لیکن اگر رمضان میں نہیں دے سکے تھے تو جب چاہیں دے دیں ایسی کوئی پابندی نہیں کہ اگر پچھلے رمضان کا فدیہ رہتا ہو تو وہ اگلے رمضان میں ہی دے، رمضان کے علاؤہ کسی اور مہینے میں دے ہی نہیں سکتے ایسی کوئی پابندی نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سوال: اگر کسی کے کئی سالوں کے روزے چھوٹے ہوں یا ایک سال کے بھی چھوٹے ہوں تو کیا رمضان کے علاوہ ان کا فدیہ دیا جا سکتا ہے؟
جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔
جواب: فدیہ کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، ٹھیک ہے؟ رمضان ہو یا غیر رمضان، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فدیہ جس کے ذمہ ہو، بہت جلدی اس کو ادا کرنا چاہیے۔
باقی جب تک انسان میں روزہ رکھنے کی طاقت موجود ہو، چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا دینا ہی لازم ہے، فدیہ ادا کرنے کی اجازت نہیں۔ رمضان یا غیر رمضان کا فرق نہیں، اصل معیار طاقت اور صحت ہے۔ اگرچہ روزے چالیس یا پچاس سال پرانے ہی کیوں نہ ہوں، جب تک استطاعت ہو، انہیں آہستہ آہستہ ادا کرنا ضروری ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص ایسا دائمی بیمار ہو جائے کہ آئندہ صحت یابی کی کوئی امید نہ رہے، یا قضا رکھنے سے قبل وفات ہو جائے، تو اس صورت میں فدیہ ادا کیا جائے گا۔ اگر فوت ہو جائے تو وارث چاہیں تو اس کی طرف سے روزے رکھ سکتے ہیں، اور اگر نہ رکھیں تو فدیہ ادا کر دیں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب تک قدرت یا طاقت ہے، فدیہ نہیں بلکہ قضا ہی واجب ہے، اور فدیہ صرف دائمی عذر یا وفات کی صورت میں آتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



