سوال 6970
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
کریکڈ cracked softwares کو ڈاؤنلوڈ کر کے جاب یا فری لانسنگ میں استعمال کرنا کیسا ہے؟
پاکستان میں عموماً فری لانسنگ میں اور کئی کمپنیز یہاں تک کہ کئی سرکاری اداروں میں بھی ایسے سافٹ وئیرز استعمال کیے جاتے ہیں۔
مثلاً:
ANSYS
SOLIDWORKS
AUTOCAD
CATIA
MSC APEX
MSC NASTRAN
MSC PATRAN
Photoshop
وغیرہ
عموماً یہ ساری امریکی کمپنیاں پیں۔ جیسے ANSYS, اور MSC APEX, NASTRAN, PATRAN ناسا (NASA) کے سافٹ وئیرز ہیں۔
ان کی قیمت لاکھوں بلکہ ملینز میں ہوتی ہے۔ ان کو کریک کر کے مفت میں سیکھنے یا جاب کے لیے استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کریکڈ سافٹ وئیر کا استعمال، خاص طور پر جب اس سے مالی نفع کمایا جا رہا ہو، شرعی، اخلاقی اور قانونی ہر اعتبار سے غلط ہے۔ یہ دوسروں کی محنت کی چوری اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ سرکاری اداروں یا بڑی کمپنیوں میں اس کا رواج اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔
اس بات کو درج ذیل نکات میں واضح کیا جا سکتا ہے:
1. دانشورانہ ملکیت کی شرعی حیثیت
اہل علم کے نزدیک “حقوقِ تالیف” (Copyrights) اور “حقِ ایجاد” (Patent Rights) شرعی طور پر مالِ متقوم (ایسی ملکیت جس کی مالی قیمت ہو) تسلیم کیے جاتے ہیں۔ لہذا جس طرح کسی کی حقیقی املاک اور جائداد کو غصب کرنا یا بلا اجازت استعمال کرنا درست نہیں، سافٹ ویئرز اور پروگرامز وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔
2. معاہدے کی پاسداری
سافٹ وئیر استعمال کرتے وقت صارف ایک “لائسنس معاہدہ” (EULA) قبول کرتا ہے۔ اسلام میں معاہدوں کی پاسداری فرض ہے۔
قرآن کریم کا حکم ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ،
(اے ایمان والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو)۔ [سورۃ المائدہ: 1]
حدیث نبوی ﷺ ہے:
“المسلمون على شروطهم” (مسلمان اپنی طے کردہ شرائط کے پابند ہوتے ہیں)۔ [سنن ابی داؤد: 3594]
3. تجارتی استعمال اور فری لانسنگ
اگر سافٹ وئیر کو جاب، فری لانسنگ یا کسی کمپنی میں مالی نفع کمانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس کی آمدنی کے حلال ہونے پر اثر پڑتا ہے۔
اہل علم کے ہاں کسی کی محنت اور ملکیت کو اس کی اجازت کے بغیر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا “غصب” کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
اگرچہ اس سے حاصل ہونے والی کل کمائی کو “حرام” نہیں کہا جائے گا (کیونکہ محنت آپ کی اپنی ہے)، لیکن سافٹ وئیر کا غیر قانونی استعمال ایک گناہ اور حق تلفی ضرور ہے۔
لہذا اپنی پیشہ ورانہ یا تعلیمی و تربیتی زندگی کی بنیاد “حلال اور طیب” ذرائع پر رکھنے کے لیے کریکڈ ورژن سے گریز کرنا لازمی ہے۔
اس حوالے سے اچھی بات یہ ہے کہ کوئی بھی پروفیشنل یا طالبعلم محنت کرے تو مشہور پروگرامز/ سافٹ ویئرز کے کریکڈ ورژنز کی بجائے ان کے بہترین اوپن سورس یا فری متبادل تلاش کر سکتا ہے۔
چنانچہ بہت سے مہنگے سافٹ وئیرز کے بہترین مفت متبادل موجود ہیں۔ مثلاً:
Photoshop کے بجائے GIMP یا Krita۔
AutoCAD کے بجائے FreeCAD یا LibreCAD
MSC Nastran/ANSYS کے بجائے Code_Aster یا OpenFOAM
اسی طرح تقریباً تمام بڑے سافٹ وئیرز (AutoCAD, ANSYS, SolidWorks) طلباء کو مفت یا انتہائی کم قیمت پر تعلیمی لائسنس دے دیتے ہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




