سوال 6927
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
محترم جناب میری کمپنی نے جس بنک میں میرا سیلری اکاونٹ کھلوایا ہے۔ اس بنک نے مجھے اپنے ڈیبیٹ کارڈ کے علاوہ ایک کریڈٹ کارڈ (پلاٹینم کارڈ) کی سہولت دی ہے، جس کے اندر میں نے اپنی مرضی سے 75 ہزار کی لمٹ رکھوائی تھی. اگر کھبی میں اس لمٹ سے جتنی رقم استعمال کرونگا تو اگلے مہینہ کی سیلری سے وہ رقم بنک کو لوٹانا ہوگی تقریبا ہر مہینہ کی پانچ یا دس تاریخ کو.
آج میں اے سی لینے گیا تو شاپ والے نے کہا کہ اگر آپ کریڈٹ کارڈ سے پے کرینگے تو 1.5 فیصد بنک سروس چارجز کاٹ لے گا(جو اگرچہ بہت زیادہ نہیں تھوڑے ہی بنتے ہے). تاہم میں یہی سوال کرنا چاہتا ہو کہ بالفرض میں آدھی قیمت کیش اور باقی کریڈٹ کارڈ سے پے کرو تو بنک سروسز یا جو قیمت کاٹی جائے گی وہ سود کے زمرہ میں تو نہیں آتی. کیونکہ میں نے مسئلہ جاننے کی وجہ سے نہیں خریدا.
(بلکہ کیا عام حالات میں بھی شاپنگ کیلیے کریڈٹ کارڈ ایسے استعمال کر سکتے ہے کیونکہ بہت سی کمپنیاں پواینٹس بھی دیتی ہے)
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً والسلام.
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سروس چارجز سود نہیں ہوتا۔
وہ سہولت دینے کا کرایہ ہے۔ باقی کریڈٹ کارڈ سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ بندہ کہیں نہ کہیں لیٹ ہو کر جرمانہ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور وہ جرمانہ سود ہے۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ



