سوال     6643

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
مشائخ کرام، بینکس مختلف کریڈٹ کارڈ سروس دیتی ہیں (مثلا فیصل بینک کا نور کارڈ) جس میں وہ یہ سہولت دیتی ہیں کہ آپ اس کریڈٹ کارڈ پر 4-5 لاکھ تک کوئی چیز خریدیں اور کبھی 3 یا کبھی 6 مہینے تک قسطوں میں وہ رقم ادا کردیں تو آپ سے اصل رقم ہی لی جائے گی کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔ تو کیا اگر کسی شخص کو امید ہو کہ وہ ماہانہ اقساط بروقت ادا کرکے اصل رقم ہی میں وہ چیز حاصل کرسکتا ہے اور سود کی نوبت نہیں آنے دے گا، تو کیا ایسا بندہ یہ کریڈٹ کارڈ سروس حاصل کرسکتا ہے؟
قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب

اس قسم کی پیشکش کر کے اصل میں یہ سودی ادارے لوگوں کا شکار کرتے ہیں۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ لا تزنُوا، زنا مت کرو، قرآن کہتا ہے “لا تقربوا الزنا”، زنا کے قریب بھی مت جاؤ۔ تو بالکل اسی طریقے سے یہ جو یہاں سلسلہ ہے، آپ کو ابتداء میں یہی کہا جائے گا کہ جی آپ سے ہم کوئی سود وصول نہیں کریں گے لیکن آپ نے ایک غلط جگہ پر قدم رکھ دیا۔ اب اس کے بعد اس دلدل کے اندر پھر انسان مسلسل دھنستا چلا جاتا ہے۔ یہ جو آپ نے فرمایا نہ کہ اس شخص کو امید ہو کہ وہ ماہانہ اقساط بروقت ادا کر کے اصل رقم پر ہی چیز حاصل کر سکتا ہے اور سود کی نوبت نہیں آئے گی، یہ بات صرف لفظوں کی حد تک اچھی لگتی ہے جب عملی میدان میں اتریں گے تو سمجھ آ جائے گی کہ ایسا معاملہ نہیں ہے۔ انسان جب ایک دفعہ غلط راستے پر قدم اٹھا لیتا ہے پہلا تو اگلا قدم اٹھانا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی چیزوں سے مکمل گریز کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ

جو ان کارڈز کی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن جو صورتِ حال آپ کے سوال سے واضح ہوتی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لینے والا چھ مہینوں تک اس بات کا پابند بنتا ہے کہ وہ اصل رقم میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا، لیکن اگر چھ مہینوں کے اندر ادائیگی نہ ہو سکی تو اس کے بعد اضافہ لازم آئے گا۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ لینے والا کم از کم اصولی طور پر اس بات کو قبول کر رہا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد وہ سود ادا کرے گا۔ یہ قبولیت بذاتِ خود سودی معاملے میں داخل ہونے کے مترادف ہے۔ اگرچہ آپ یہ کہتے ہیں کہ نیت یہی ہے کہ چھ مہینوں کے اندر اندر رقم ادا کر دی جائے، لیکن دوسری طرف یہ شرط مان لینا بھی موجود ہے کہ بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں اضافہ دینا ہوگا، اور یہی محلِّ اشکال ہے۔
اسی وجہ سے یہ معاملہ شرعاً درست معلوم نہیں ہوتا، اور اس کے جواز میں تردد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

فضیلۃ العالم حافظ علی عبد اللہ حفظہ اللہ