سوال (4714)
کیا ذبح کے دوران جو جانور کا خون نکلتا وہ ناپاک ہوتا ہے؟
جواب
دم مسفوح جو دہار کی صورت میں گردن سے بہہ کر نکلتا ہے، اس کے بارے میں اکثر اہل علم نے نجاست کا دعویٰ کیا ہے، یہ بھی کہا ہے کہ اس کے نجس ہونے پر اجماع ہے، باقی جو خون جسم کی دیگر جگہوں پر چھپا رہتا ہے، اس کی نجاست کا فتویٰ نہیں ہے، دم مسفوح کے نجس ہونے کا فتویٰ دیا جاتا ہے، اس میں بھی قلیل و کثیر کی بحث ہے، قلیل و کثیر کو عرف کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے، لوگ جس کو قلیل کہتے ہیں، وہ قلیل ہے، جس کو کثیر کہتے ہیں، وہ کثیر ہے، قلیل میں قصاب وغیرہ کے لیے گنجائش موجود ہے کہ اگر ہلکا پھلکا لگا ہے تو نماز پڑھنی چاہیے، اگر کثیر ہے تو دھونا چاہیے، اس طرح کی بحث موجود ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: كيا دم مسفوح نجس ہے؟
جواب: دم مسفوح نجس اور ناپاک ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جی شیخ صاحب دم مسفوح کیا ہوتا ہے؟
جواب: جب ذبح کرتے ہیں تو دھار کی صورت میں جو خون نکلتا ہے، اس کو دم مسفوح کہا جاتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: دم مسفوح نجس کی شرعی دلیل مطلوب ہے؟
جواب: اس کی شرعی دلیل اجماع امت ہے۔
فضیلۃ الباحث حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ
قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ،
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




