سوال (3717)
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو ابراہیم بن میسرہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن شرید نے، کہا کہ میں سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس کھڑا تھا کہ مسور بن مخرمہ ؓ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھا۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ کے غلام ابورافع ؓ بھی آگئے اور فرمایا کہ اے سعد! تمہارے قبیلہ میں جو میرے دو گھر ہیں، انہیں تم خرید لو۔ سعد ؓ بولے کہ بخدا میں تو انہیں نہیں خریدوں گا۔ اس پر مسور ؓ نے فرمایا کہ نہیں جی تمہیں خریدنا ہوگا۔ سعد ؓ نے فرمایا کہ پھر میں چار ہزار سے زیادہ نہیں دے سکتا۔ اور وہ بھی قسط وار۔ ابورافع ؓ نے فرمایا کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے۔ تو میں ان گھروں کو چار ہزار پر تمہیں ہرگز نہ دیتا۔ جب کہ مجھے پانچ سو دینار ان کے مل رہے ہیں۔ چناچہ وہ دونوں گھر ابورافع ؓ نے سعد ؓ کو دے دئیے۔ [صحیح البخاری: 2258]
اس میں چار ہزار اور پانچ سو سے کیا مراد ہے؟
جواب
چار ہزار سے مراد چار ہزار درھم ہیں جیسا کہ بخاری ہی کی روایت کتاب الحیل میں “چار سو مثقال” بیان ہوا ہے۔
ایک مثقال دس درھم کے برابر تھا جیسا کہ فتح الباری میں ابن حجر رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے تو چار سو مثقال کی قیمت چار ہزار درھم کے برابر ہوئی،
باقی پانچ سو دینار کی قیمت چار ہزار درھم سے زیادہ تھی اسی لئے فرمایا کہ مجھے انکے پانچ سو دینار مل رہے ہیں۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ




