سوال 6717
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
مسجد میں نمازیوں کے سامنے گیس کی آگ کا ہیٹر چل رہا ہوتا ہے، اس پر بعض نمازی حضرات نے اس پر اعتراض کیا ہے، اس پر تفصیل فتویٰ درکار ہے؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس مسئلے پر اہل علم نے بات کی ہے، البتہ میرے محدود مطالعے کے مطابق اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔
یہ وہ چیز نہیں جسے ہم کسی قسم کی تشبیہ جیسے مجوسیت یا آتش پرستوں کے ساتھ جوڑیں۔
البتہ اس کا ایک اور حل بھی ممکن ہے کہ ہیٹر کو سامنے نہ لگایا جائے، بلکہ دائیں یا بائیں جانب رکھ دیا جائے۔ اس طرح بھی کام چل سکتا ہے۔
لیکن بعض اوقات ہم لوگ مسائل کے حل موجود ہونے کے باوجود انہیں اختیار نہیں کرتے، یہ بھی ایک ایشو ہے۔
مثال کے طور پر، بعض جگہ شیشے کی الماریاں سامنے رکھی ہوئی ہیں جو عکس ظاہر کر رہی ہوتی ہیں، تو نماز کے دوران اس پر بحث ہوتی ہے کہ توجہ خراب ہو سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں بہتر ہے کہ الماریاں اس طرف نہ بنائیں، یا بغیر شیشے کے بنائیں۔
کچھ چیزوں کے حل موجود ہیں، اور جہاں ممکن ہو انہیں اختیار کرنا چاہیے۔
بہر حال، جہاں تک سوال کا تعلق ہے کہ اگر ہیٹر سامنے ہو تو نماز کی کیا حیثیت ہے، ہمارے نزدیک اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



