سوال (3598)
دینی امور پر اجرت لینے کے حوالے سے اہل بدعت کی تحریر کا جواب.
جواب
بالکل غلط ہے۔
1: دینی امور پر اجرت لینے کی ممانعت پر کچھ ثابت نہیں۔
2: انبیاء کرام جب مشرکین کفار کو توحید کی دعوت دیتے تھے تو اس دعوت توحید پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتے تھے۔ آج بھی کوئی بھی شخص کسی کافر کو دین کی دعوت دے کر ان سے پیسوں کا مطالبہ نہیں کرتا میں نے اتنی دیر دین کی دعوت دی ہے لہذا مجھے اتنے پیسے دو۔
3: امامت کروا کر، کسی کو دم کرکے یا دیگر دینی امور پر اجرت لینے کا جواز حدیث میں موجود ہے۔
[بخاری: 5736]
4: ختنے کرنا، جان بچانے کے لیے آپریشن کرنا، حج عمرہ کرنا یہ سب بھی دینی امور ہی ہیں۔ اگر اس سب پر اجرت لینا جائز ہے تو امامت کروا کرکیوں نہیں جو کہ سب سے پاکیزہ کمائی ہے۔
5: آیتوں کو بیچنے کی ممانعت جو قرآن میں ہے۔ البقرہ: 41، اس سے مراد صرف مال۔ کے لالچ میں آکر غلط فتاوی جات دے کر، تحریفات کرکے اجرت وصول کرنا ہے۔
یہ ضالین اور برے لوگ علماء کو دنیاوی کاموں میں الجھا کر دین کے باضابطہ نظام کو گرانا چاہتے ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث احمد بن احتشام حفظہ اللہ