سوال (4284)

ایک نوجوان نے اپنی بیوی کو یہ کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور اس کث ذہن میں یہ تھا کہ میں اپنی بیوی کو دھمکی دے رہا ہوں، میں فیوچر میں تمہیں طلاق دوں گا یعنی طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں، اس کے دل میں یہ بات تھی، اور یہ بات وہ حلفاً اور قسماً کہتا ہے، پھر جیسے کچھ دن گذرے ہیں، ان کا جگھڑا ہوگیا تھا تو اس نے کھڑے کھڑے دو بار کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ دو طلاقیں ہو گئی ہیں، باقی تیسری باقی ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات تھی کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں، پھر ان کا جگھڑا ہوا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ اس بار میں نے طلاق کا لفظ بولا ہے، لیکن مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے یہ بولا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں یا میں تمہیں طلاق دوں گا، بیوی بھی کہتی ہے کہ تم نے مجھے طلاق دی نہیں ہے، لیکن تمہاری زبان میں طلاق کا لفظ آیا ہے، تیسری بار یہ واقعہ ہوا ہے، اب شیخ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

دیکھیں جہاں یہ مسئلہ ہوا ہے، وہاں کے سلفی علماء کے سامنے دونوں فریق کو بیٹھا دیا جائے، وہ دونوں فریق اپنا حلفیہ بیان دیں، کیونکہ اس وقت طلاق کے معاملے میں بہت زیادہ جھوٹ اور غلط بیانی ہو رہی ہے، شائید یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
باقی بظاہر سوال کے مطابق اس کی پہلی طلاق ہوگئی ہے، باقی وہ تاویل کچھ بھی کرے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، ایک طلاق اس کی ہوگئی ہے، باقی دوسری طلاق اس نے کب دی ہے، رجوع ہوا ہے یا نہیں، درمیان میں وقفہ کتنا تھا، کتنے عرصے کے بعد ہوا ہے، یہ بھی دیکھ لیں، بہترین حل یہ ہے کہ مقامی علماء کے سامنے مسئلہ بیان کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ