سوال

کیا ڈیجیٹل پراڈکٹس جیسے کہ ای بکس، آن لائن کورسز، سافٹ وئیر اور ڈیجیٹل آرٹ کے ذریعے کمائی حلال ہے؟ اس کے حلال ہونے کی کیا شرائط ہیں؟

دوسرا یہ کہ ڈیجیٹل گودس کی اونرشپ، لائیسنسنگ اور ٹرانزیکشنز کے حوالے سے شریعت کے کیا رہنما اصول ہیں؟ اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ فروخت ہونے والا مواد یا پراڈکٹ حرام عناصر سے پاک ہو؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

ڈیجیٹل مصنوعات (Digital Products) جیسے ای بکس، سافٹ وئیر اور آن لائن کورسز کے ذریعے کمائی عصرِ حاضر کے فقہی مسائل میں ایک اہم موضوع ہے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت اصولی طور پر حلال ہے، بشرطیکہ وہ شرعی ضوابط کے مطابق ہوں۔ مثلا:

1۔ مواد کا درست اور شریعت کے مطابق ہونا : سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ پروڈکٹ کا مواد اسلامی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً:  ای بک یا کورس میں سود، قمار (جوا)، فحاشی، یا عقائدِ باطلہ کی ترویج نہ ہو۔ ڈیجیٹل آرٹ میں ایسی تصاویر نہ ہوں جو شرعی طور پر ممنوع ہوں جیسا کہ بے پردگی، برہنگی وغیرہ۔

2۔ ملکیت اور حقِ فروخت : آپ صرف وہی چیز بیچ سکتے ہیں جس کے آپ مالک ہوں یا آپ کے پاس اسے آگے فروخت کرنے کا قانونی اور شرعی حق ہو۔ انٹرنیٹ سے دوسرے کا مواد چوری کر کے بیچنا حرام ہے۔

سافٹ وئیر ڈویلپمنٹ میں دوسروں کا کوڈ (بغیر اجازت) یا گرافک ڈیزائننگ میں دوسروں کے فونٹس اور تصاویر (بغیر لائسنس) استعمال کرنے سے بچیں، کیونکہ یہ حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے۔

3۔ دھوکہ دہی سے پاک: پروڈکٹ کی تفصیلات (Description) بالکل واضح ہونی چاہئیں تاکہ اس میں کسی قسم کا “غرر” (دھوکہ) نہ ہو۔ جو خصوصیات بتائی جائیں، وہ سافٹ وئیر یا کورس میں موجود ہوں۔

4.اشتہارات کی نگرانی: اگر آپ کی ڈیجیٹل پروڈکٹ (جیسے ایپ یا ویب سائٹ) اشتہارات کے ذریعے کماتی ہے، تو ایڈ نیٹ ورک کی سیٹنگز میں جا کر غیر شرعی اشتہارات (شراب، ڈیٹنگ، جوا، میوزک، برہنگی وغیرہ) کو بلاک کریں۔

جہاں تک اونرشپ، لائیسنسنگ اور ٹرانزیکشنز کے شرعی اصول کی بات ہے تو  شریعت میں “حقوقِ دانش” (Intellectual Property Rights) کو ایک قانونی حق تسلیم کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اہم اصول یہ ہیں:

1۔ حقِ تصنیف (Copyright): اسلام محنت کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر آپ نے کوئی سافٹ وئیر بنایا ہے، تو آپ اس کے مالک ہیں۔ کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ آپ کی اجازت کے بغیر اس کی کاپیاں بنا کر بیچنا شروع کر دے۔

2۔ لائیسنسنگ (Licensing): ڈیجیٹل مصنوعات میں اکثر “ملکیت” کے بجائے “استعمال کا حق” (Right to Use) بیچا جاتا ہے۔ جسے “عقدِ اجارہ” یا “بیعِ حقوق” سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ آپ خریدار پر یہ شرط لگا سکتے ہیں کہ وہ اسے صرف ایک ڈیوائس پر استعمال کرے یا اسے آگے شیئر نہ کرے۔

3۔صاف لین دین اور شفاف ٹرانزیکشن: رقم کی ادائیگی اور پروڈکٹ کی فراہمی کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے، اس کے علاوہ اسلام کسی خاص طریقہ کار کا مطالبہ نہیں کرتا۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ڈیجیٹل مصنوعات کی فروخت موجودہ دور میں رزقِ حلال کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ خلوصِ نیت، محنت اور شرعی حدود و قیود کا خیال رکھا جائے۔ آپ جو بھی ڈیجیٹل پراڈکٹ یا سامان بنائیں، اسے سچائی، دیانتداری اور شریعت کے ترازو میں تول کر مارکیٹ میں لائیں۔

یہ کچھ اصولی اور عمومی باتیں ہیں اگر آپ کسی خاص پروڈکٹ (مثلاً کوئی مخصوص سافٹ وئیر یا کورس) کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو اس کے خدوخال اور تفصیلات کو سامنے رکھ کر ہی شرعی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ