سوال 6734
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک واقعہ بعض خطبات و بیانات میں بیان کیا جاتا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی اور اس نے عرض کیا: “میں چرخے پر دھاگہ کاتتی ہوں، بعض اوقات رات کو میری ہمسائی کے گھر کا چراغ جلتا ہے اور اس کی روشنی میرے گھر میں آ جاتی ہے، تو کیا اس روشنی میں تیار کیا گیا دھاگہ میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟”
براہِ کرم اس واقعے کے بارے میں درج ذیل امور کی تحقیق فرما دیں:
1) کیا یہ واقعہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سند کے ساتھ ثابت ہے؟
2) اگر ثابت ہے تو اس کی اصل تخریج (کتاب، مؤلف، سند) کیا ہے؟
3) اگر ثابت نہیں تو محدثین یا محققین نے اس کی کیا حیثیت بیان کی ہے؟
4) فقہی اعتبار سے اس مسئلے (دوسرے کی چراغ کی روشنی سے فائدہ اٹھانا) کا صحیح حکم کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه، أما بعد:
فقد قال القشيري في الرسالة، والخادمي في بريقة محمودية جاءت أخت بشر الحافي إلى أحمد بن حنبل رحمه الله . وقالت: إنا نغزل على سطوحنا بشعلة الملك، هل يجوز لنا الغزل في شعاعها، وقد وقع علينا المشاعل الظاهرية؟ فقال: من أنت عافاك الله؟ قالت: أخت بشر الحافي، فبكى أحمد، وقال: من بيتكم يخرج الورع الصادق، لا تغزلي في شعاعها. اهـ.
وقد حكى هذه القصة بمعناها الشاطبي في الموافقات، وابن الجوزي في صفة الصفوة، كما حكاها الشيخ الحويني في بعض دروسه، وهو من المشتغلين بعلم الحديث، ولم نر أحدا من هؤلاء ضعف القصة. والله أعلم.
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




