سوال      6716

اگر کوئی چیز میری دکان میں موجود نہ ہو اور گاہک وہ چیز مجھ سے خریدنے آئے، تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں وہ چیز کسی دوسری دکان سے خرید کر اس پر اپنا نفع رکھ کر گاہک کو فروخت کر دوں؟ شریعت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں.

جواب

دکاندار ہمارے عرف میں ایسا کرتے ہیں کہ وقتی طور پر وہ کسی چیز کے موجود ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ نہیں کر پاتے۔ فرض کریں گاہک نے چار چیزیں خریدیں اور پانچویں چیز دستیاب نہ ہو، تو دکاندار کہتا ہے: جی ایک منٹ میں آپ کو لا کے دیتا ہوں۔
وہ پھر دو چار دکانیں چھوڑ کر کسی اور سے وہ چیز لے آتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ جب وہ چیز آ جائے گی تو آپ اسے واپس کر دیں گے یا وہ آپ سے اس طرح کر لے گا۔
اس کے بعد گاہک کو چاہے جو بھی ریٹ مقرر کریں، وہ لینے پر مجبور نہیں بلکہ جب وہ چیز وارے میں آئے گی تو وہ اسے لے لے گا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم یہ معاملہ کمیشن ایجینٹ کے زمرے میں آئے گا؟
جواب: یہ کمیشن والا معاملہ تو دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ یہ تو آپ کی اپنی چیز ہوتی ہے نا، لین دین چلتا رہتا ہے۔ گویا کہ آپ نے اس سے ادھار پہ لی ہے۔ چیز آئے گی تو چیز دے دیں گے ورنہ پیسے دے دیں گے۔ اب آپ اپنی چیز کو جس قیمت پہ چاہیں بیچیں۔ اس میں کمیشن والا معاملہ تو دکھائی نہیں دے رہا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: تو پھر شیخ حدیث میں تو اتا ہے جو چیز ہماری ملکیت میں نہیں ہے اسکی بیع نہیں کرو اسکا جواز کس حدیث سے فراہم کیا جائے گا؟
جواب: چیز آپ کی ہے، اور آپ نے اسے لے کر آ لیا۔ جب وہ چیز آتی ہے تو وہ بھی آپ سے لے لیتا ہے، تو اس کے بعد آپ لوگ بعد میں حساب کرتے ہیں۔
مارکیٹ میں یہی رواج ہے: چیز اٹھوا دی جائے، تو وہ چیز آپ کی ہو جاتی ہے، چاہے اسے فوراً لکھا نہ جائے۔
اور اگر آپ نے ابھی پیسے نہیں دیے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ چیز آپ کی نہیں ہے۔
چیز آپ کی ہے، آپ نے اسے لے کر آ لیا، اب یہ آپ کا مسئلہ ہے کہ بعد میں اسے دینا ہے یا نہیں۔ گاہک کو آپ اپنے حساب سے دیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ