سوال (6462)
شیخ ایک ساتھی کا یہ سوال ہے کہ میرا بزنس ماڈل مختصراً یہ ہے:
میں ایک آن لائن اسٹور (واٹس ایپ/ فیس بک گروپ) چلاتا ہوں۔
ایک ہول سیلر نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں اس کا مال آگے فروخت کر سکتا ہوں اور اپنا نفع رکھ سکتا ہوں۔
مال پہلے سے میری جسمانی ملکیت میں نہیں ہوتا، لیکن:گاہک سے معاملہ میری طرف سے ہوتا ہے آرڈر، شکایات اور ذمہ داری میں خود لیتا ہوں۔ ہول سیلر میری اجازت اور اجازتِ فروخت کے ساتھ مال فراہم کرتا ہے۔ بعض اوقات سپلائر براہِ راست گاہک کو پارسل بھیج دیتا ہے۔
میرے سوالات یہ ہیں:
کیا یہ بزنس ماڈل وَکَالَۃ (Agency) کے زمرے میں آتا ہے؟
کیا اس صورت میں یہ فروخت شرعاً جائز ہے یا اسے ناجائز ڈراپ شپنگ کہا جائے گا؟
اس ماڈل کو حلال اور شریعت کے مطابق رکھنے کے لیے کن شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
میری نیت یہ ہے کہ میں ہر قسم کے شبہ سے بچوں اور اپنی کمائی کو سو فیصد حلال رکھوں۔
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب
ڈراپ شپنگ (Drop shipping) کے ذریعے لین دین کا حکم اور اسے شرعی بنانے کا طریقہ- اسلام سوال و جواب https://share.google/zcs2iZhocIug1LQZd
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
ڈراپ شیپنگ کی مروجہ صورت تو حلال نہیں کیونکہ اس میں انسان خود کو ایک چیز کا مالک ظاہر کروا کر اس چیز کو فروخت کرتا ہے، حالانکہ وہ اس کا مالک ہوتا نہیں ہے۔
مروجہ ڈراپ شپنگ میں دو اعتبار سے شریعت کی مخالفت ہوتی ہے:
1 جو چیز پاس موجود نہیں اسے بیچنا
ڈراپ پیشنگ میں اس چیز کی بیع کی جاتی ہے جو پاس موجود نہیں ہوتی۔ جبکہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
“لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ”. [سنن الترمذی:1232]
’جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو’۔
2 قبضہ میں لیے بغیر فروخت کرنا
شرعی طور پر اگر کسی چیز کو فروخت کرنا ہے تو اس چیز کو پہلے خود اپنے قبضہ و تصرف میں کیا جائے گا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ”. [صحيح البخاری:2136]
’جو شخص بھی غلہ خریدے تو جب تک اسے پوری طرح قبضہ میں نہ لے تو آگے فروخت نہ کرے’۔
مروجہ ڈراپ شپنگ میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ سپلائر چیز براہ راست کسٹمر کو بھجواتا ہے اور جو ڈراپ شپر (Drop Shipper) خود کو اصل مالک ظاہر کرتا ہے، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا اس لیے مروجہ ڈراپ شپنگ کی صورت صراحتا حرام ہے۔
ڈراپ شپنگ کا متبادل
اس کی حلال صورت یہ ہے کہ چیز کو مالک کے طور پر نہ بیچیں بلکہ کمیشن ایجنٹ کے طور پر فروخت کریں۔
کمیشن ایجنٹ ہونے کی دو صورتیں ہیں:
1۔کمپنی کی طرف سے کمیشن ایجنٹ
2۔خریدار کی طرف سے کمیشن ایجنٹ۔
1کمپنی کی طرف سے کمیشن ایجنٹ :
اس کی یہ صورت بنتی ہے کہ کوئی شخص کمپنی سے باقاعدہ معاہدہ کرے کہ وہ کمپنی کی طرف سے چیزیں فروخت کرے گا اور کمپنی مقرر کردہ پرسنٹیج کے مطابق کمیشن دے گی۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کمپنی کہے کہ فلاں چیز اتنی قیمت کی ہے اس سے زائد قیمت پر آپ فروخت کردیں اور پیمنٹ کمپنی کے پاس جائے گی اور کمپنی اپنی رقم کاٹ کر باقی رقم بطور کمیشن کام کرنے والے کو دے دے گی۔ یہ جائز ہے۔
2 خریدار کی طرف سے کمیشن ایجنٹ بننا،
اس کی یہ صورت ہوگی کہ ایک شخص کسٹمر سے ڈیل کرے کہ میں آپکو یہ چیز آگے سے خرید کر دوں گا۔ خود کو مالک کی بجائے کمیشن ایجنٹ کے طور پر ہی ظاہر کرے۔ اس صورت میں وہ شخص کسٹمر سے آرڈر لے کر مارکیٹ سے چیز خرید کر بالواسطہ یا بلا واسطہ کسٹمر کو بھجوا دے۔ اس صورت میں وہ شخص سروسز چارجز یا ویسے ہی کمیشن کے طور پر اپنا حصہ لے سکتا ہے۔ کمیشن کی پرسنٹیج الگ سے طے کرنا بھی درست ہے، لیکن اس کی بجائے چیز کی قیمت کے ساتھ ہی کمیشن کی رقم ملا کر کل رقم پر ہی کسٹمر سے ڈیل طے کرلے جس پر دونوں فریقین رضامند ہوں تو یہ بھی درست ہے۔
ذیل میں بطور نمونہ کچھ الفاظ نقل کیے جا رہے ہیں جس میں کسٹمر کو اپنی مالکانہ حیثیت کی بجائے کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے آگاہ کیا جاسکتا ہے مثلا اس قسم کی عبارت لکھ دی جائے:
“ہم آپ کو پروڈکٹس معتبر سپلائرز سے خرید کر فراہم کرتے ہیں۔ ہم خود مالک یا بیچنے والے نہیں بلکہ صرف خریداری اور ڈیلیوری میں ۔معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ہاں البتہ اگر سامان میں کوئی خرابی یا مسئلہ ہوا تو ہم ذمہ دار ہیں”۔
“We act as your sourcing agents and take full responsibility to ensure the correct item reaches you in proper condition. In case of any damage or issue, we are committed to resolving the matter or compensating you appropriately.”
بہرصورت خلاصہ یہ ہے کہ ڈراپ شپنگ کے اندر خود کو مالک ظاہر کرنا بالکل غلط ہے، ہاں بطور کمیشن ایجنٹ وغیرہ اپنی خدمات پیش کرکے یہ کام سر انجام دیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




