سوال (4025)
دعاء قنوت میں آمین كہنے كے مقامات
الشیخ صالح العصیمی
اللهم اهدنا فيمن هديت: آمين
وعافنا فيمن عافيت: آمين
وتولنا فيمن توليت: آمين
وبارك لنا فيما أعطيت: آمين
وقنا شر ما قضيت: آمين
إنك تقضي ولا يقضى عليك: خاموش رہیں، یا پھر سبحان اللہ كہیں
وإنه لا يذل من واليت: خاموش/ سبحان اللہ
ولا يعز من عاديت: خاموش/ سبحان اللہ
تباركت ربنا وتعاليت: خاموش/ سبحان اللہ
نستغفرك و نتوب إليك: آمین
جو شیخ صاحب ترجمہ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ پہلی چارجگہ پر آمین کہنا باقی پر خاموشی یا سبحان کہنا چاہیے۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب
معنی و مفہوم کے اعتبار سے بات درست ہے، قابل قبول ہے، البتہ عوام کے لیے سختی نہیں ہونی چاہیے، بس اس فہم کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
اسی بات کی طرف دو دن پہلے الشیخ ارشاد الحق الاثری صاحب حفظہ اللہ توجہ دلا رہے تھے، خلاصہ قرآن کی کلاس میں۔ اسی طرح یہ صرف قنوت وتر کے ساتھ خاص نہیں اور نماز جنازہ اور دیگر دعاؤں میں بھی یہ چیز دیکھنی چاہیے اور معنی و مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔ اسی ضمن میں شیخ محترم نے دو ائمہ کا واقعہ بھی بتایا کہ ایک امام نے آمین کا محل نہیں تھا تو وہاں پر آمین کہا، تو دعا کروانے والے نے توجہ دلائی کہ یہاں پر آمین نہ کہیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الباحث عبد اللہ بن عصمت اللہ حفظہ اللہ