سوال (2892)
میرے تین بچے ہیں، چھوٹا 3 ماہ کا ہے، وہ ہمیں اپنے دیور کو دینا تھا۔ ہم نے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا نہ کوئی لکھ پڑھ ہوئی تھی، بس زبانی ہاں کہ دی تھی لیکن میری ڈیلوری کے وقت وہ لوگ نہیں آئے، اب تین ماں بعد آگئے، بچہ مدر فیڈ کر رہا ہے، اب بچے کو اپنا دودھ چھڑوا کے بچہ ان کو دینا میرا دل نہیں مان رہا، میں بچے کو خود سے جدا نہیں کر سکتی۔ لیکن میرے دیور شوہر سسر سب گھر والے مجھ پے دباؤ ڈال رہےہیں کے بچہ دینا ہے، میرے شوہر کہتے ہیں کہ بچہ یا خاوند میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا، میرے سسر کہتے کہ بچہ نہیں دوگی تو اس گھر سے چلی جاؤ، میرے دیور کہتے ہے کہ مجھے بچہ نہیں دوگی تو مرتے دم تک ہماری بات چیت بند ہوگی، جبکہ میری دیورانی چاہتی اور کہتی کہ دو سال تک بچے کو دودھ دے دو پھر اگر میرے پاس آتا تو ٹھیک اور اگر نہیں آتا تو کوئی بات نہیں، لیکن نہ ہی میری بات کوئی سنتا اور نہ ہی میری دیورانی کی، ایک بات اور کہ وہ لوگ پتہ کر چکے کہ ولدیت چینج نہیں کی جا سکتی، اس لیے ولدیت میں اپنے والد کا نام ہی ہوگا۔
جواب
ماں اور بچے میں اس طرح جدائی کرنا حرام ہے، دین اسلام کی رو سے یہ ظلم ہے، یہ ناجائز ہے، اہل علاقہ میں سے بڑے لوگوں کو بٹھا کر یا بڑے کسی عالم کو بٹھا کر مسئلہ حل کریں، افہام اور تفہیم سے حل ہو جائے گا. ان شاءاللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




