سوال (4901)

میری ایک دکان ہے، جو بغیر پلستر اور شٹر کے پڑی ہوئی ہے، میں نے دوست کو کہا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ روپے دو، میں ایک سال میں واپس کردوں گا، اس بندے نے کہا ہے کہ یہ تین چار لاکھ روپے ہیں، وہ اپنے پاس اس میں لگا لو ، اس سے جو پرافیٹ آئے وہ دیتے رہنا، میں نے اس کو ایکسیپٹ کرلیا ہے، میں نے اس کو کہا ہے کہ پانچ ہزار دکان کا کرایہ آئے گا، آدھا آپ لیں، آدھا میں لے لوں گا، جب تک میں کرایہ دیتے رہوں گا، جب تک آپ کے دیے ہوئے پیسے میرے پاس نہیں ہو جاتے ہیں، لیکن میں اس کو ایک سال کی لیمنٹ مین میں لے رہا ہوں، کیا یہ سود میں نہیں آئے گا۔

جواب

آپ اس سے قرضہ لے لیں، بعد میں اس کو قرضہ واپس کردیں، اس میں آپ اس کو کوئی اضافی پیسہ نہیں دیں گے، کیونکہ یہ سود ہوجائے گا، اس طرح اگر آپ اس سے پیسے لے لیتے ہیں، آپ اس کو کہتے ہیں کہ دکان کا آدھا کرایہ آپ کو دیتا رہوں گا، جب تک آپ کے پیسے پورے نہ ہوں، آپ یہ کرایہ لیتے رہیں، یہ بھی سود ہے، آپ اس رقم پر اس کو کرایہ شریک کر رہے ہیں، ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اس کا پیسہ کاروبار میں لگائیں، آپ بولیں کہ اتنے پیسے آپ دے دو، اتنے میں دیتا ہوں، دکان بنا کر کرایہ پر چاہتے ہیں، پھر جو کرایہ آئے گا اس میں سے بیس یا تیس پرسنٹ میں آپ کو دوں گا، یہ مضاربت کی شکل بن جائے گی، پھر ٹھیک ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ