سوال (5896)

دکان پہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے لیے ڈوائیس رکھنا کیسا ہے؟ اس دوران بینک مجھ سے 1.2 یا 1.4 عشریہ پرافیٹ لے گا، تو رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مطلقا جواز کی بات کرنے کی بجائے پہلے ’کریڈٹ کارڈ’ والی بات پر توجہ دیں… کریڈٹ کارڈ میں یہ بھی ہوتا ہے کہ بینک سے کارڈ لے کر لوگ بینک کے پیسوں سے خریداری کرتے رہتے ہیں، اور پھر مقرر مدت تک بینک کو وہ ادھار واپس کر دیتے ہیں اور اگر نہ دیں تو بینک اس پر سود لاگو کر دیتا ہے.
اب ان صاحب نے جو مشین رکھی ہے، اس میں لوگوں کو پیسے نکال کر دینے ہیں، تو اس کی نوعیت کیا ہو گی، کیا ان کا اپنا بیلنس اس میں ہو گا، کہ جس سے وہ لوگوں کو پیسے نکال کر دیں، یا پھر بینک سے ادھار لے لے کر لوگوں کو دیں گے اور پھر آخر میں جا کر بینک کو ادا کریں گے. یہ دوسری صورت ہے تو یہ سودی سلسلہ ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

کارڑ عمومی طور پر دو طرح کے ہیں۔1 کریڈٹ کارڈ 2 ڈیبٹ کارڈ
کریڈٹ کارڑ کا استعمال شرعا حرام ہے۔ سودی معاہدہ کی وجہ سے۔
جبکہ ڈیبٹ کارڑ (اے ٹی ایم) کارڑ کا استعمال صحیح ہے۔
اگر تو دکان پر مشین ڈیبٹ کارڑ کے استعمال کے لیے رکھنی تو یہ ایک سہولت ہے لوگوں کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں، بنک کو مشین رکھنے کے عوض کچھ چارجیز دینا بھی صحیح ہے۔ لیکن کریڈٹ کارڑ کا استعمال چونکہ شرعا حرام ہے۔ اس لیے اس کے لیے دکان میں مشین رکھنا یہ گناہ/حرام میں معاونت ہے۔

ولَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ، [المائدہ: 2]

گناہ ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: حرام کس طرح سے اور کس معاہدہ کے تحت کچھ مبہم سا ہو گیا ہے، اسکو تھوڑا مزید واضح کردیں، عموماً تو ہمارا استعمال ڈیبٹ کارڈ کا یہی ہوتا ہے کہ ٹرانزیکشن کرنا کیش کرنا ای ٹی ایم سے۔ تو یہ حرام کیسے ہے۔ اپنی رقم خود نکلوانا۔
جواب: عموما ٹرانزیکشن کے لیے جو استعمال کیا جاتا وہ ڈیبٹ کارڈ ہوتا ہے،جسے اے ٹی ایم کارڈ کہ دیا جاتا۔ اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ کا استعمال حرام ہے۔ اس میں سود کا معاہدہ کیا جاتا۔ جو کہ حرام ہے۔
جس کی کیفیت یہ ہے کہ اگر ہم نے 50 ہزار بطور قرض استعمال کیا ہے تو اگر ہم ایک ماہ (یا کوئی بھی طے کردہ وقت) کے اندر نہیں لوٹاتے تو ہمیں جرمانہ کے طور پر اضافی رقم دینا ہوگی۔
اب اگر مقررہ وقت کے اندر ہی لوٹا دیتے بغیر اضافی سود کے لیکن یہ معاہدہ تو طے کیا کہ اگر مقررہ وقت میں نہ دیا تو ہم سود دیں گے، تو شرعی طور پر سود پر مبنی اس معاہدے کی وجہ سے اس کا استعمال حرام ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ