سوال 6626
السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال ہے کہ شادی کے وقت دلہن دولہے کو جو سلامی دیتے ہیں کیا اسلام میں دینا جائز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اصل بات یہ ہے کہ اگر سوال اس انداز سے کیا جائے کہ شادی کے موقع پر اس عمل کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ تو اس کا اصولی جواب یہی ہوگا کہ شادی کے موقع پر بہت سے کام رائج ہیں، لیکن ہر رائج عمل کے پیچھے اسلامی دلائل ہونا ضروری نہیں۔ اس لیے درست سوال یہ بنتا ہے کہ ان میں کس حد تک شریعت نے گنجائش دی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ معاشرے کا عرف اور رسم اگر: اسلام کے خلاف نہ ہو، اور غیر مسلموں سے ماخوذ نہ ہو، تو وہ جائز ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے موقع پر: تحفے، لفافے یا رقم دینا، مخصوص لباس پہننا، اور خاص قسم کے کھانے پکانا،یہ سب عرفاً رائج ہیں، اس لیے اصولی طور پر جائز ہیں۔
البتہ درج ذیل امور ناجائز ہیں: مرد و زن کا اختلاط، اسراف اور فضول خرچی، اور تحفہ یا رقم اس نیت سے دینا کہ یہ واپس ملے گی یا بڑھ کر ملے گی، جسے عرف میں نیوندر کہا جاتا ہے۔
لہذا: اگر تحفہ خالص نیت سے بطورِ ہدیہ دیا جائے تو جائز ہے، لیکن معاوضے یا واپسی کی نیت سے دینا جائز نہیں۔
واللہ اعلم
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




