سوال (5447)
کیا ایک ایسا شخص جس کی اولاد نہ ہو اور اپنی زندگی میں اپنا وراثت میں ملا ہوا مکان یا خود خرید کر اپنی بیوی کو اس شرط کے ساتھ دے سکتا ہے کہ اس کے یعنی خاوند کے مرنے کے اس کی بیوی اس مکان کو استعمال کرے اور اس کے یعنی بیوی کے مرنے کے بعد اپنے مرحوم شوہر کو جس نے مکان دیا تھا اس کے بھانجوں کو دینے کی وصیت کرے؟
جواب
جب انسان دنیا سے جاتا ہے، تو اس کا مال ترکہ بن جاتا ہے، جو اس کے حقدار ہیں وہ متعین ہوچکے ہیں، دین اسلام نے بتایا ہے کہ کس کو کیا ملے گا، اسی حساب سے مال تقسیم ہوگا، باقی کسی کو دینا چاہتا ہے تو ٹوٹل مال کا ایک تہائی حصہ وصیت کر سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
پیارے بھائی سوال میں ایک اشکال ہے شروع میں لکھا ہے کہ شوہر کو مکان وراثت میں ملا ہے یا خود خریدا ہے جبکہ آخر میں لکھا ہے کہ شوہر کو جس نے مکان دیا تھا یعنی اسکے بھانجوں کو دینے کی وصیت کرے یہ واضح اختلاف ہے میرا جواب پہلی صورت میں نیچے ہے۔
اس میں شوہر اپنا مکان اپنی وفات کے بعد دو پارٹیوں کو دینا چاہتے ہیں پہلے بیوی کی زندگی تک بیوی کے استعمال میں دینا چاہتے ہیں اور بیوی کے بعد اپنے بھانجوں کو دینا چاہتے ہیں اب بیوی اس شوہر کے وارثوں میں ہے اور بھانجے نہیں ہوں گے پس بیوی کے لئے وصیت نہیں ہ سکتی ہے بلکہ زندگی میں تحفہ ہو سکتا ہے اور بھانجوں کے لئے وصیت ہو سکتی ہے
پس بیوی کو وہ تحفہ مکان صرف کچھ عرصے (یعنی اسکی زندگی تک) دے سکتے ہیں یہ جائز ہو سکتا ہے اگر شوہر کی اس کے علاوہ بھی جائیداد ہو اور اس تحفہ کا مقصد بیوی کے علاوہ باقی وارثوں کو محروم کرنا نہ ہو۔
باقی بھانجوں کے لئے وہ آج ہی وصیت کر سکتے ہیں کہ یہ ان کے بھانجوں کو دیا جائے جب انکی بیوی فوت ہو جائے لیکن وصیت اسکی کل جائداد کا ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔
پس اگر اوپر والی شرائط پوری ہیں (یعنی باقی وارثوں کو محروم نہیں کر رہا اور بھانجوں کو وصیت بھی ایک تہائی سے زیادہ نہیں) تو یہ آج اپنی زندگی میں یہ لکھ کر دے سکتے ہیں کہ بیوی کی زندگی تک مکان کا حق بیوی کو ہبہ کرتا ہوں اور بیوی کی فوتگی کے بعد مکان کا حق بھانجوں کو وصیت کرتا ہوں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




