اک سال گیا، اک سال نیا ہے آنے کو
حرص و ہوس سے پاک و پوتر کسی سچّی مَحبّت کی کھوج میں صحرا نوردی کرتے ہم بہت دُور نکل جاتے ہیں، بہت ہی دُور، کسی شیریں اور کاسنی سے لب و لہجے کو ڈھونڈتے اور تلاشتے ہم خود کو گنوا بیٹھتے ہیں، ایسے میں بے اعتبار ماہ و سال بیتتے رہتے ہیں، تلخ و ترش لمحے پیہم ہمیں نوچتے چلے جاتے ہیں، بے اختیار رُتیں ہماری سوختہ سی جبینوں پر احساسِ محرومی کھود ڈالتی ہیں اور پھر ہم آزردہ سی زیست کے اندوختہ لمحات میں لرزیدہ قدموں کے ساتھ تھک ہار کر خود کو تنہا محسوس کرتے کرتے موت کے شکنجے میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ وقت کی تلخیاں ہمارے جسموں کو چھید ڈالتی ہیں۔ ہمارے بدن میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ انتہائی محبوب و مرغوب لوگ بھی ہمیں چھوڑ جاتے ہیں پھر رفتہ رفتہ درونِ دل یہ احساس تابندہ ہونے لگتا ہے کہ ہم سے سچی مَحبّت تو فقط ایک ہی ہستی ہم سے کرتی ہے باقی سب سراب ہی سراب اور نرا عذاب ہی تو ہے۔منشی امیر اللہ تسلیم کا شعر ہے۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
یقیناً زندگی میں شوخ و چنچل ساعتیں بھی آتی ہیں، کیف و سرور سے مزیّن لمحات بھی، عارض و لب کو نکھار جاتے ہیں مگر یہ سب کچھ عارضی ہی تو ہوتا ہے۔ تلاطم خیز جذبات ہوں یا تابندہ و درخشندہ احساسات، یہ سب دائمی تو نہیں ہوتے۔آج اگر ہم طرب انگیز ایام کے جلو اور جھرمٹ میں شاداں و فرحاں ہیں تو یہ سب کچھ بہت جلد ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے والا ہے۔میر حَسن نے کتنا عمدہ شعر کہا ہے!
سدا عیشِ دوراں دِکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
ہم فرشِ مخمل پر سونے والے ہیں یا نرم و گداز اور نشاط انگیز بستر پر، بالآخر ہم سب کو مٹّی کے اندر دفن ہونا ہے۔
ہمیں اپنوں سے گِلے شکوے ہی رہتے ہیں، ہم تشکّر و سپاس سے کہیں پرے بھٹک چکے ہیں۔ہم زندگی کی کسی بھی سیڑھی پر موجود ہوں، ہم ماہ و سال کے اختتامی لمحات بھی گزار رہے ہوں، تب بھی ہم اپنوں سے شاکی ہی رہتے ہیں۔منافرت و مناقشت سے لدے دل کے ساتھ ہم زندگی تمام کر ڈالتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور فکر کے پہلو میں ہم زندگی کے آخری لمحات تک گزار بیٹھتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ زندگی کے موسم اپنے تیور ضرور بدلتے ہیں اور جب جب ایسا ہوتا ہے چہار سُو عارضے اور آزار اپنے دانتوں کو کٹکٹانے لگتے ہیں۔فیض احمد فیض نے کبھی کہا تھا۔
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے، جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
میرے بچپن کے کئی دوست اور ہم جماعت اس دنیا سے رخصت ہو چکے۔کتنے ہی نوجوان، عین نوجوانی کے عالَم میں موت میں جا چکے۔بے شمار لوگ ایسے ہیں کہ انھوں نے جوانی کی فقط 20 یا 30 بہاریں ہی دیکھی تھیں مگر 2025 ء کے آخری دنوں میں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔زندگی موت کی بانہوں میں سمٹ آئی ہو تو کوئی اسے اس سے چھڑا ہی نہیں سکتا۔بہت سے لوگ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی ہے۔ ایسے میں سانسوں میں کتنی تُرشی اور چبھن محسوس ہونے لگتی ہے، اس کا ادراک فقط اسی شخص کو ہوتا ہے جو اس آزار سے گزرا ہو۔ ایسے لوگوں کی نحیف و نزار حالت دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔انسان موت کے شکنجے میں جکڑا جائے تو وہ بے بسی اور بے چارگی کے سوا کچھ بھی تو نہیں کر سکتا۔وہ اپنی زیست کے کسی ایک آسودہ لمحے کو بھی واپس نہیں لا سکتا۔” عبرت مچھلی شہری“ کا شعر ہے۔
جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پِھر کر اپنے مرکز پر
تو واپس لَوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے؟
یاد رکھیں! کہ ہم نے بھی ضرور مرنا ہے اور گزرنے والا ہر لمحہ ہمیں موت کے قریب تر لا رہا ہے۔ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ اس کے سامنے ساری منطقیں اور دلیلیں پھیکی پڑ جاتی ہے۔ اس حقیقت سے ہم خوب آشنا ہیں کہ ایک دن ہم نے بھی موت کے شکنجے میں بے بسی کی عبرت ناک تصویر بن جانا ہے مگر شاید ابھی ہماری زیست کے کچھ لمحات، چند ایام یا کچھ ماہ و سال باقی ہیں، تو کیوں نہ ہم ان باقی ماندہ ایام سے عناد، بغض، حسد اور کینہ کو کھرچ ڈالیں، ہم سب لوگوں کی غلطیاں معاف کر کے خود کو ہلکا پھلکا کر لیں۔ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کوتاہیوں پر غور کرنا شروع کر دیں اور اپنے خیال کدے کو اللہ کے شُکر سے سَرسبز و شاداب کر لیں۔مسلمان ہی نہیں، ہم انسانیت کے لیے مَحبّت کا پیغام بن جائیں اگر ہم سب انسانوں میں چاہتیں تقسیم کرنا اپنی خُو بنا لیں تو نہ صرف ہماری زندگی سے دھندلکے چَھٹ جائیں گے بلکہ آخرت میں بھی آسانیاں ہمارا استقبال کریں گی، ورنہ یہ زندگی بہت جلد تمام ہونے جا رہی ہے، یہ سب جلترنگ اور آہنگ یہیں پڑا رہ جائے گا اور آنِ واحد میں موت ہم کو اچک لے جائے گی۔ ابنِ انشا کی نظم کا ایک بند ہے؛-
اک سال گیا، اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کی اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
دل ہاتھ سے اس کے وحشی ہرن کی مثال گیا
(انگارے… حیات عبداللہ)
یہ بھی پڑھیں: محمد بن علی العقلاء مرحوم کی طلبہ سے والہانہ محبت اور ان کی اذیتوں پر صبر




