سوال (522)

عمرہ پر گیا ہوا شخص دوبارہ عمرہ کا ارادہ رکھے تو کیا اس کی کوئی تعداد معین ہے کہ دو دفعہ یا چار دفعہ کیا جاسکتا ہے؟ یا جتنی دفعہ وہ چاہے قریب میقات سے احرام باندھ کر بار بار کر سکتا ہے؟

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں چار عمرے کیے ہیں۔ باقی ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کرنا چاہیے، اس کی طرف علماء گئے ہیں، لیکن بعض علماء کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ سفر آسان نہیں ہوتا ہے، ہر وقت موقع بھی نہیں ملتا ہے، اس لیے جب اللہ تعالٰی نے موقع دیا ہے تو ایک سے زائد عمرے کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حج و عمرے پہ در پہ کیا کرو، باقی یہ ہے کہ میقات وغیرہ سے عمرے کیے جائیں تو ایک سے زائد بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارا رجحان اس طرف ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: سوال ہے کہ آدمی پاکستان سے عمرہ کرنے کے لیے گیا ہوا ہے، جاتے ہوئے اس نے ایک عمرہ کر لیا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ میں ایک اور عمرہ کر لوں، جس کے لیے وہ طائف یا کسی اور جگہ پر جا کر احرام باندھ کر آتا ہے تو کیا یہ جو اس نے دوسرے عمرے کے لیے سفر کیا ہے طائف کا یا کس اور علاقے کا کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک سفر میں صرف ایک ہی عمرہ کیا ہے اور اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے بھی ایک سفر میں ایک ہی عمرہ کیا ہے؟
جواب: زیادہ تر علماء کا رجحان، بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے علماء اور جمہور سلفی علماء، اسی طرف ہے کہ اگر کوئی میقات سے احرام باندھ کر آتا ہے تو عمرہ اس کے لیے جائز ہے، چاہے یہ دوسرا ہو یا تیسرا ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سفر بہت مشکل ہو جاتا ہے اور یہ سعادتیں اور نعمتیں انسان کو بار بار حاصل نہیں ہو سکتیں، اس لیے دین میں آسانی رکھی گئی ہے۔
لہذا، فاستبقوا الخیرات کے تحت انسان کو خیرات میں سبقت کرنی چاہیے، اور و فلیتنافس المتنافسون کے تحت تنافس اور بھاگ دوڑ ہونی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے: “تابعوا بین الحج والعمرة”، یعنی حج اور عمرہ کو پے در پے ادا کرو، مطلب بار بار کرو۔
اس میں بشارت یہ بھی ہے کہ گناہ معاف ہوں گے، فقر و فاقہ بھی ختم ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ