سوال          6864

فجر کی اذان شروع ہوجائے تو پلیٹ میں موجود کھانا کھا سکتے ہیں؟ اسکی وضاحت درکار ہے۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا اکمل قادری کو جواب دینا آیا نہیں۔ پہلی بات یہ کہ انہوں نے کہا حضرت بلال تہجد کی اذان دیتے تھے، یہ بات محلِ نظر ہے۔ تہجد کی اذان کا کوئی تصور اسلام نے نہیں دیا۔ اذان ہوتی تھی، اس میں شک نہیں، لیکن اس کا مقصد خود نبی علیہ السلام نے بیان فرمایا: “لِيَسْتَرِيحَ الْقَائِمُ” جو قیام (تہجد) کر رہا ہے وہ آرام کر لے، اور “وَلِيُوقِظَ النَّائِمَ” جو سو رہا ہے وہ بیدار ہو جائے اور فجر کی تیاری کرے۔
یعنی اذان کا مقصد تنبیہ تھا، سحری کا اعلان تھا، تہجد کی الگ کوئی اذان نہیں تھی۔ گویا سائرن بج گیا کہ بس کرو بھائی، اور جو سو رہا ہے وہ اٹھ جائے۔
دوسری بات یہ کہ عام قاعدہ یہی ہے کہ چونکہ عبداللہ بن ام مکتوم وقت پر اذان دیتے تھے، اس لیے وقت پر ہی سحری بند ہونی چاہیے، یعنی کھانا پینا اذان کے وقت بند کر دینا چاہیے۔ پھر یہ تین منٹ کی پٹی کیوں لگائی جاتی ہے؟ اگر اذان وقت پر ہے تو اسی وقت بند کراؤ۔ اذان تو نماز کے لیے ہوتی ہے، لیکن حدیث بتا رہی ہے کہ اذان کا سحری سے بھی تعلق ہے، لہٰذا وقت پر اذان دیں اور وقت پر سحری بند کریں۔
اب رہی ابو داؤد کی حدیث اس کا جواب مولوی صاحب نہ دے سکے۔ حدیث میں ہے کہ اگر تمہارے ہاتھ میں پیالہ ہو اور تم کچھ کھا رہے ہو کہ اذان ہو جائے، تو اگر تمہیں حاجت ہو تو اپنی حاجت اس پیالے سے پوری کر لو۔ یہ واضح ہے کہ یہ ایک اتفاقی صورت ہے، کوئی عام معمول نہیں۔ کسی خاص شخص کے لیے رخصت ہے، جس کی گوٹ پھنس گئی یا اچانک اذان ہو گئی اور یہ روایت حکما مرفوع ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ابوداود#2350

إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ.

تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے۔
یہ روایت مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں آئمہ علل نے بیان کیا البتہ موقوفاً ثابت ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے

أمّا حديثُ عمّار: فَعَنْ أبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفٌ
(علل الحديث لابن أبي حاتم# ٢/‏٢٣٦))

اگر کامل یقین ہو کہ فجر کی اذان وقت پر شروع ہوئی ہے تو اس صورت میں اذان کے وقت نہیں کھانا پینا چاہیے۔ ہاتھ میں پیالہ ہو تو حاجت پوری کرلیں یہ خاص صورت میں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
امام ابو حاتم الرازی کی بات باعتبار اصول و طرق کے ہے کہ راجح اس کا موقوف ہونا ہے ابو ھریرہ رضی الله عنہ پر یہ مراد نہیں کہ یہ موقوفا صحیح ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

جی بالکل۔ یہاں امام ابو حاتم کا قول مرفوع، موقوف کے تعین کے لیے ہی درج کیا گیا ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

مگر جو آپ نے لکھا تھا وہ مراد ہرگز نہیں ہے آپ مزید غور کریں تو واضح ہو جائے گا۔
بارك الله فيكم

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ