سوال         6772

حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو فجر کی نماز کے بعد کہ الله دو دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: ”صبح کی نماز دو رکعتیں ہیں۔“ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے پہلی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں، جو اب پڑھی ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ سیم خاموش ہو گئے۔
کتاب: ابوداؤد حدیث نمبر: 1267
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲۔ ابن عمر سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے ، ۳۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴۔ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ھمام سے یہ حدیث اس سند سے اس طرح روایت کی ہو سوائے عمرو بن عاصم کلابی کے۔ اور بطریق:
قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة عن النبي صلى اللہ علیہ وسلم مشہور یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے فجر کی ایک رکعت بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے فجر پالی۔“
کتاب: ترمذی حدیث نمبر: 423
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ محترم ان دونوں احادیث میں سے بہتر کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ویسے تو دونوں روایات کو ہی اہلِ علم نے قبول کیا ہے۔
البتہ زیادہ رجحان اس طرف دکھائی دیتا ہے کہ سورج نکلنے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعات ادا کی جائیں، اس لیے اس قول کو راجح قرار دیا جا سکتا ہے۔
دوسری صورت کا بھی جواز موجود ہے۔ اگر سورج نکلنے کا وقت نہ ہو اور آپ امام کے ساتھ فرض نماز ادا کر چکے ہوں تو فوراً دو رکعت سنت بھی پڑھ سکتے ہیں، یہ جائز ہے۔
لیکن اگر سورج نکلنے کے بعد ادا کی جائیں تو یہ بہتر اور اولیٰ ہوگا۔ اہلِ علم کا عمومی رجحان اسی طرف دکھائی دیتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ