سوال (2982)

فجر کی سنتیں ادا کرنے کے بعد لیٹنا کیسا عمل ہے؟

جواب

فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا مستحب عمل ہے، لہذا اگر اہتمام ہوجائے تو اچھی بات ہے، البتہ بعض لوگوں نے اس دعا کو

“اللهم اجعل في قلبي نورا”

لیٹنے کے ساتھ خاص کردیا ہے، یہ مناسب نہیں ہے، فجر کی سنتوں کے بعد یہ دعا تو ہے، جیسے سہولت ہو ویسے پڑھنی چاہیے، لیٹنا ایک الگ عمل ہے، دعا ایک الگ عمل ہے، حدیث میں اگرچہ امر کے صیغے ہیں، لیکن ہر امر وجوب کے لیے نہیں ہوتا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات لیٹ جاتے تھے، جب میں جاگ رہی ہوتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ یہ استحبابی امر ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا، گھر میں تو ثابت ہے کیا مسجد میں یہ عمل سنت سے ثابت ہے۔

جواب: جو ذکر ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سنتوں کے بعد لیٹ جایا کرتے تھے، عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں سنتیں پڑھتے تھے، اولی بھی یہی ہے، اس وجہ سے ذکر آیا ہے، اب یہ نہیں ہے کہ گھر میں لیٹنا ہے، بلکہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنا خواہ مسجد میں ہیں یا گھر میں ہیں، الگ سے دلیل نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اس بارے بہت زیادہ تفصیل ہے، راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لیٹنا کچھ دیر راحت وآرام کے لئیے ہوتا تھا اور ایسا قیام اللیل کے سبب تھا اور یہ عمل وتر کے بعد ہوتا تھا اسے ہم فجر کی دو رکعت کے ساتھ خاص نہیں کر سکتے ہیں۔

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عموما سنن نوافل گھر میں ادا فرماتے تھے اس لئے یہ عمل جہاں تہجد کا اہتمام ہو گا وہاں کر لیں گے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سوال: فجر کی سنتوں کے بعد دائیں جانب لیٹنا چاہیے؟

جواب:  فجر کی سنتوں کے بعد دائیں کروٹ لیٹنا سنت سے ثابت ہے۔

صحیح بخاری، باب: فجر کی سنتیں پڑھ کر داہنی کروٹ پر لیٹ جانا۔

حدیث نمبر: 1160 ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.

نبی کریم  ﷺ  فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔ سنن کبریٰ للبیہقی: 4888

باب: فجر کی دو رکعات کے بعد لیٹنے کا بیان۔

 أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ کَانَ یَفْصِلُ بَیْنَ رَکْعَتَیْهِ مِنَ الْفَجْرِ وَبَیْنَ الصُّبْحِ بِضَجْعَةٍ عَلَی شِقِّهِ الأَیْمَنِ،

رسول اللہ فجر اور صبح کی رکعات کے درمیان لیٹ کر فاصلہ کرتے تھے۔

سندہ،حسن

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی اس پر عمل موجود ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم

راجح یہی ہے کہ اس کا تعلق تہجد کے ساتھ ہے تفصیل فتح الباری لابن رجب میں ملاحظہ کریں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ